لاہور(انٹرویو: حنیف خان ،تصاویر زاہد بشیر)وزیر آبپاشی پنجاب محسن خان لغاری نے کہا ہے ماضی میں پانی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، پانی کی سطح خطرناک حدتک زیر زمین جارہی ہے ،پہلے چالیس پچاس فٹ پر پانی نکل آتا تھا اب 200فٹ پر اورپینے کا پانی 700فٹ پر نکل رہا ہے ،سیلاب کی صور ت میں نقصان سے بچنے کے لئے محکمہ آبپاشی کو الرٹ کردیا ،بیراجوں کے گردونواح میں تجاوازت ختم کرائی جارہی ہیں تاکہ نقصان سے بچا جاسکے ۔کھال پنچائت اتھارٹی سے نہری نظام میں مثبت تبدیلی آئے گی ،پانی چوروں کے خلاف ہماری جدوجہد بہت کامیاب رہی،جس مقام پر گزشتہ دس سال میں پانی نہیں پہنچا وہاں بھی پہنچنا شروع ہوگیا۔ روزنامہ 92نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاافسوس لوگ پانی چوری کرنے کو چوری نہیں سمجھتے ،اگر کوئی پانی چوری کرتا ہے تودوسرے حقدار اپنے حق سے محروم ہوجاتے ہیں،گزشتہ سال پانی چوری کیس میں صرف 36افراد کو گر فتار کیا لیکن ہمارے وقت میں پانی چوری کے 8124کیس رپورٹ،3173مقدمات در ج اور1908افراد کو گرفتار کیا چکا ہے ،وزیر اعلی پنجاب بھی پانی کے ایشوء پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ،پانی چوری کی روک تھام کے لئے پولیس نے تعاون کیا ہے ، کوشش ہے جس کا جو پانی کا حق بنتا ہے اسے دیں۔قادرآباد،تریموں،تونسہ بیراج ، بلوکی اوردیگر مقامات کے دورے کئے ،تمام بیراجز پر حفاظتی پشتہ جات کی مانیٹرنگ جاری ہے ۔