’’آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنایا‘‘ ، وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ بیان پڑھا تو سلطنت عثمانیہ کا اعلان محرم یاد آ گیا۔ چند سال پہلے بھی میں نے اسی ڈر کا اظہار کیا تھا اور آج پھر میرے دامن سے یہی خوف لپٹ چکا ہے کہ کیا ہمارے ساتھ بھی وہی ہونے جا رہا ہے جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ ہوا تھا؟حالات کی مماثلت بہت زیادہ ہے اور پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ۔ سلطنت عثمانیہ کا فرمان محرم کیا تھا؟ یہ معاشی سرنڈر کی دستاویز تھی جس پر 1881ء میں مجبوری کے عالم میں سلطنت عثمانیہ نے دستخط کیے ۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب سلطنت عثمانیہ کے ’سٹیٹ بنک‘ پر سلطنت کا کوئی کنٹرول نہیں رہا۔ اب مالیاتی بندوبست کو عالمی مالیاتی قوتیں براہ راست دیکھیں گی۔ انہی کا عملہ آئے گا۔ وہی پالیسیاں بنائیں گے۔ وہی ٹیکس کا تعین کریں گے،۔وہی ٹیکس وصول کریں گے۔ چنانچہ فرمان محرم کے تحت یورپی ممالک نے سلطنت عثمانیہ کی معیشت کا نظام سنبھال لیا۔ یہ اپنے لوگ لے کر آئے۔ ان کی اپنی معاشی ٹیم تھی۔ اپنے ماہرین تھے۔ سلطنت عثمانیہ کی’’وزارت خزانہ‘‘ اور سارا مالیاتی ڈھانچہ بے بس ہو گیا۔ یورپی اہلکاروں نے ’ریاست کے اندر ریاست‘ بنا لی۔ بندرگاہوں سے لے کر بازاروں تک ہر طرف انہی کی پالیسیاں چل رہی تھیں۔ ایک متوازی معاشی بیوروکریسی کھڑی کر دی گئی۔کوئی ترقیاتی کام بھی ہوتا تو انہی کی اجازت اور تعاون سے ہوتا۔ انہوں نے ٹیکسوں کا انبار لگا کر رہی سہی مقامی معیشت کا بھی کباڑا کر دیا۔ایک نئی معاشی پالیسی آئی اور ہر اس شعبے میں باہر سے سستا مال مارکیٹ میں ڈالا گیا جس میں مقامی سطح پر کوئی پیداوار ہو رہی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی معیشت برباد کر دی گئی۔ایک وقت ایسا آیا کہ اس یورپی بندوبست کے ملازمین کی تعداد سلطنت عثمانیہ کی وزارت خزانہ کے ملازمین کی تعداد سے بھی ز یادہ ہو گئی۔مقامی سطح پر بھی ہزاروں لوگ بھرتی کیے گئے جن کا کام صرف یہ تھا کہ نئے نئے ٹیکس وصول کیے جائیں اور ٹیکس کی یہ رقم یورپ لے جائی جائے۔ جنگ عظیم تو بہت بعد کے مسئلے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ اسی دن ہو گیا تھا، جب اس نے اعلان محرم جاری کیا تھا۔ اس فرمان محرم سے پہلے کیا ہوا ، یہ بھی دیکھ لیجیے۔سلطنت عثمانیہ کے دربار شاہی اور اس سے جڑی اشرافیہ کے غیر معمولی اخراجات تھے۔چنانچہ بیورکریسی کے اللے تللے پورے کرنے کے لیے قرض لیا جاتا رہا ۔ یعنی وہی ہوا جو ہمارے ہاں ہو تا رہا ہے۔قوم کے سر ٹیکسوں اور مہنگائی کا عذاب ہے لیکن بالادست اشرافیہ اور بیوروکریسی کے مزے ہیں۔ چنانچہ قرض لے لے کر اور بے رحمی سے کھا کھا کرایک وقت آیا کہ سلطنت عثمانیہ کا دیوالیہ نکل گیا۔ قرض کا پہاڑ کھڑا تھا لیکن اس قرض سے سلطنت میں ایسا کچھ بھی تیار نہیں کیا گیا تھا، جس سے اتنا زر مبادلہ حاصل ہو پاتا کہ قرض کی ادائیگی ہی ہوتی رہتی۔وہی جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ چنانچہ 1875میں’فرمان رمضان‘ جاری کیا گیا اور دنیا کو بتا دیا گیا کہ سلطنت عثمانیہ کے پاس آپ کا قرض ادا کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ وہ دیوالیہ ہو گئی ہے۔ جب نوبت یہاں تک آن پہنچی تو جنہوں نے قرض دے رکھے تھے وہ اکٹھے ہو گئے کہ اب سلطنت عثمانیہ کی معاشی پالیسیاں ہم ترتیب دیں گے۔ اب اہم فیصلے ہم کریں گے۔ طے پایا کہ اب ٹیکس کب کہاں اور کتنا لگنا ہے اس کا فیصلہ سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ سلامت نہیں کریں گے بلکہ اس کا فیصلہ وہ کریں گے جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کو قرض دے رکھا ہے۔( بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ہاں اب یہ بات آئی ایم ایف طے کرتا ہے کہ بجٹ کیسا ہو گا اور وزیر اعظم شہباز شریف اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنایا ہے)۔ اس کے چند ہی سال بعد1881ء میں مجبوری کے عالم میں سلطنت عثمانیہ نے معاشی سرنڈر کی دستاویز پر دستخط کیے اور ’فرمان محرم‘ جاری کر دیا گیا۔ فرمان محرم اس بات کا اعلان تھا کہ اب سلطنت عثمانیہ کے ’’سٹیٹ بنک‘‘ پر سلطنت کا کوئی کنٹرول نہیں رہا۔ اب مالیاتی بندوبست کو عالمی مالیاتی قوتیں براہ راست دیکھیں گی۔ انہی کا عملہ آئے گا۔ وہی پالیسیاں بنائیں گے۔ وہی ٹیکس کا تعین کریں گے،۔وہی ٹیکس وصول کریں گے۔( بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے سٹیٹ بنک کو خود مختار کر کے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس پر ہمارا اب اس طرح سے کوئی کنٹرول نہیں رہا جیسے پہلے ہوتا تھا) اب ذرا اپنے حالات پر غور کیجیے اور کہیں ملتا ہے تو فرق تلاش کیجیے۔ سلطنت عثمانیہ کو بھی بیوروکریسی اور اس کے اخراجات چاٹ گئے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ عام کو دینے کے لیے خزانے میں کچھ نہیں ہے لیکن بیوروکریسی کے اللے تللے قرض لے کر پورے کیے جا رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے ملک بنا ہی افسر شاہی کے لیے تھا۔ قرض کا پہاڑ اسی طرح کھڑا ہو چکا ہے جیسے سلطنت عثمانیہ کی پشت پر کھڑا ہوا تھا۔خود مختاری اسی طرح سکڑ رہی ہے جیسے سلطنت عثمانیہ کی سکڑی تھی۔ فیصلہ سازی حکومت کی بجائے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف منتقل ہوتی جا رہی ہے۔ قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرض اور سود کی ادائیگیوں میں جا رہاہے اور یہ تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔ دور دور تک کوئی امید نظر نہیں آتی کہ یہ تناسب کم ہو سکے۔ عالمی مالیاتی ادارے اب براہ راست مداخلت کر کے فیصلے کر رہے ہیں کہ کہاں کتنا ٹیکس لگانا ہے۔ یہ واردات بالکل وہی ہے جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ ہوئی تھی۔ ہماری بیوروکریسی اسی طرح ملکی خزانے اور وسائل کو چاٹ رہی ہے جیسی سلطنت عثمانیہ کی بیوروکریسی چاٹتی تھی۔ عام آدمی کے لیے ’’ مشکل فیصلے ‘‘ ہیں لیکن بیوروکریسی کی اندھا دھند مراعات میں کوئی کمی نہیں ہو رہی۔کمی تو کیا خاک ہونا تھی اس بجٹ میں تو حیا کے وہ ظاہری پردے بھی چاک کر دیے گئے جو حکومتیں اب تک اہتمام سے کرتی تھیں کہ اندر خانے جو بھی ہو کم از کم عوام کو دکھانے کے لیے کچھ ظاہری اقدامات ضرور کیے جاتے تھے۔ یہ حکومت اس سے بی بے نیازز ہو چکی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے نزدیک عوام ، عوام کی خواہشات اور عوام کے مسائل کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ عوام کی خیر خواہ حکومتیں تو ہمارے حصے میں شاید نہ ہی ہوں لیکن جس ناز سے اس حکومت نے عوام پر بوجھ ڈالتے ہوئے بالادست طبقات کے لیے سہولیات ، مراعات اور آسائشات کا اہتمام کیا ہے یہ حیران کن اور انتہائی تکلیف دہ ہے۔ سہمی ہوئی رعایا بے شک کسی رد عمل کے قابل نہ ہو لیکن ایسے اقدامات کسی بھی آتش فشاں کے پھٹنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ معاشی حالات بہت خراب ہیں لیکن اس کے باوجود اشرافیہ کا لنگر خانہ بند ہونے میں نہیں آ رہا۔ ہم سب ایک آتش فشاں پر بیٹھے ہیں۔