آپ کا نام ’’احمد‘‘ لقب ’’بدرالدین‘‘ کنیت ’’ابوالبرکات‘‘ القاب’ خزینۃ الرحمۃ، قیوم زبان، مجدد الف ثانی اور امام ربانی ہیں، آپ حنفی تھے ۔ آپ کا طریقہ مجددیہ جامع کمالات جمیع طریق قادریہ، سہروردیہ، کبرویہ، قلندریہ، مداریہ، نقشبندیہ، چشتیہ، نظامیہ اور صابریہ ہے ۔ آپ کا نسب عالی سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کے جملہ بزرگ چرخ ِولایت وعرفان کے آفتاب ،برج ہدایت وایمان کے ماہتاب تھے ۔ شیخ احمدفاروقی سرہندی مجددالف ثانی علیہ الرحمہ کی ولادت 4شوال 971ہجری کوہندوستان ،پنجاب کے ایک مقام سرہند میں ہوئی۔ تعلیم کی ابتدا حفظ قرآن سے ہوئی،پھر منطق، فلسفہ اور علم کلام میں مہارت حاصل کی۔ شارح بخاری شیخ یعقوب حرفی سے حدیث کی اور قاضی بہلول بدخشانی سے تفسیرکی اہم کتابیں پڑھیں اور سترہ سال کی عمر میں جملہ علوم کی تکمیل سے فارغ ہوگئے ۔ فراغت کے بعد درس وتدریس میں مشغول ہوئے ۔ اسی دوران رسالہ تہلیلیہ اوررسالہ درردشیعہ تحریرکیا۔ شیخ احمدفاروقی سرہندی علیہ الرحمۃ کو’ الف ثانی ‘کہنے کی دو رائے ہیں: ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ دوسرے الفیہ(ہجری سنہ کے اعتبار سے دوسرے ہزار)کے شروع میں پیدا ہوئے تھے اس لیے وہ الف ثانی(دوسرے ہزار)کے مجدد کہلائے ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اکبر نے یہ کہا کہ دین اسلام کو ہزارسال پورے ہوگئے جو کسی بھی مذہب کی طبعی عمر ہے اس لیے اب دوسرے ہزار میں نئے مذہب کی ضرورت ہے ۔ یہ اکبر کا الف ثانی کا نظریہ تھا۔ اکبر کے دور ِبادشاہی میں جس قدر کفروالحاد کوفروغ اور شرع اسلام کو ضعف وانحطاط ہو گیاتھا وہ محتاج بیان نہیں۔ دربار کا ادب سجدہ تھا اور بادشاہی کا مہر سجع’’جل جلالہ مااکبر شانہ‘‘ تھا۔ وزیرابوالفضل نے ایک کتاب بادشاہ کولاکردی اور کہا کہ آسمان سے آپ کے واسطے فرشتہ لایا ہے تاکہ آپ اس پر عمل کریں چنانچہ اس کتاب میں ایک آیت یہ بھی تھی (ترجمہ) ائے بشر! توگائے کو ذبح مت کر اور جو تو کرے گاتوٹھکانہ تیرا جہنم میں ہوگا۔ صرف اتناہی نہیں بلکہ دین الٰہی یعنی دین اکبری کاسلسلہ شروع ہوا۔کلمہ طیبہ میں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ اکبر خلیفۃ اللہ پڑھاجانے لگا،خنزیر اور کتوں کومحترم بنایاگیا، شراب اور جواحلال ٹھہرایاگیا،گائے کے ذبیحہ پرپابندی لگادی گئی،پردہ پرپابندی اور بے پردگی عام کردی گئی،بادشاہ کو سجدۂ تعظیمی لازم قرار دیاگیا،مساجد ڈھادی گئی،مدراس عربیہ پرپابندی لگادی گئی بعض منہدم کردیئے گئے ،علما کوجبراً شراب پلائی گئی،ڈاڑھی منڈوانا عام کیاگیا بلکہ ڈاڑھیاں منڈوائی گئی اور تضحیک کی گئی،سیاسی مقاصد کے تحت مذاہب باطلہ سے اتحاد کے ذریعے ایک نئی قوم کی تیاری کا سامان کیاگیااور مخالفین کوقتل کیاگیایامروادیاگیا۔شیخ مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ نے اُن تمام نظریات کی تردید کرکے اسلام کی حقانیت کو ازسرنو ثابت کیا۔ اور اس بات کو مدلل کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت ایک ہزار سال کے لیے نہیں بلکہ ہرزمانے کے لیے ہے ۔ اس لیے آپ ’مجدد الف ثانی‘ کہلائے ۔ حضرت امام ربانی علیہ الرحمۃ نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنّت پر عمل کرتے ہوئے بادشاہوں، امرائ، وزرائ، انتظامیہ ، گورنر، عدلیہ اورعلماء ومشائخ کوخطوط لکھے اور مکتوبات کے ذریعے ایسا انقلاب پیداکردیااور ایسی جماعت پیداکردی جنہوں نے دین اسلام کی عظمتوں کوبلند کرنے کے لیے بے پناہ کوششیں اور کاوشیں کیں جس کے ذریعے دین الٰہی نامی نئے دین کاخاتمہ ممکن ہوا۔حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کایہ عظیم کارنامہ ہے کہ اس وقت کے جاہل صوفیہ جویہ کہتے تھے کہ دل کی نماز پڑھنی چاہئے اور دل کا روزہ رکھنا چاہئے اورشریعت پرگامزن ہوناضروری نہیں،شریعت اور چیزہے اور طریقت اور چیز ہے ،معرفت اور چیزہے ۔حضرت امام ربانی علیہ الرحمہ نے فرمایاکہ علم عمل اور اخلاص یہ شریعت کے تین جزوہیں اور طریقت شریعت کے تیسرے جزویعنی اخلاص پیداکرنے کے لئے یہ راستہ اختیار کیاجاتا ہے اس لئے ’’طریقت، حقیقت ومعرفت خادمان شریعت اند‘‘یعنی طریقت،حقیقت ومعرفت ،نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے تابع ہیں اور جوشریعت محمدی کی تابعداری نہیں کرتاوہ نہ صوفی بن سکتاہے اور نہ ہی ولی بن سکتاہے اور نہ حقیقت ومعرفت کے مقام کوحاصل کرسکتاہے ۔ آپ نے تصوف پر خصوصی توجہ دی، شریعت اور تصوف کے درمیان کیامشترک ہے ؟ اور کیا چیزیں اضافی ہیں؟ان کو واضح کرکے ان کی حیثیت متعین کی اور وحدۃ الوجود کے فلسفہ کے مقابلے میں وحدۃ الشہود کا فلسفہ پیش کیا جو ان کی نظر میں راہِ سلوک میں سالک کے لیے محفوظ ترین راستہ تھا۔ مجددالف ثانی نے طریقت پر شریعت کی بالاتری کو تسلیم کیا اور اسی کو ثابت کرنے کی کوشش کی اور واضح کیا کہ سالک کے تجربات ومشاہدات کی بنیاد پر شریعت کاکوئی بھی حکم تبدیل نہیں کیا جائے گا اور احکام خداوندی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔ آپ اپنی زندگی میں متعددکتابیں لکھیں جو پائیدار علمی اہمیت رکھتے ہیں۔ آپ کی تصنیفات میں اثبات النبوۃ(عربی)، رد روافض (فارسی)، رسالہ تہلیلیہ (عربی)، شرح رباعیات حضرت خواجہ باقی باللہ،رسالہ حالات خواجگاں نقشبند، معارف لدنیہ، مبداومعاد، مکاشفات عینیہ، آداب المریدین مشہور ہیں لیکن جو شہرت ’’مکتوبات امام ربانی‘‘ کوحاصل ہوئی اور جو فیض ان مکتوبات سے اہل علم وخواص نے اٹھایا اس کی کچھ بات ہی اور ہے ۔ آپ کے سات صاحبزادے تھے ، جن میں سے تین شیرخوارگی ہی میں فوت ہوگئے اور چوتھے صاحبزادے خواجہ محمدصادق علیہ الرحمۃ 25سال کی عمرمیں فوت ہوئے ۔ تین بیٹے ان کے بعد حیات رہے ۔ خواجہ محمدسعید علیہ الرحمۃ اور خواجہ محمدیحییٰ علیہ الرحمۃ نے بھی اپنے والد کے سلسلے کی اشاعت کی، لیکن سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ کو اصل شہرت حضرت خواجہ محمدمعصوم علیہ الرحمۃ سے ملی، اس سلسلے میں بڑے بڑے علماء اور صلحا ء پیدا ہوئے ۔ خانقاہ مجددیہ کے جانشینوں میں مرزا مظہرجانجاناں علیہ الرحمۃ اور شاہ غلام علی علیہ الرحمۃ جیسے لوگ پیدا ہوئے ۔آپ کے دیگر خلفاء میں سید آدم بنوری، مولانا احمدبرکی، مولانا بدرالدین سرہندی، اور محمدصادق رحمۃ اللہ علیہم اجمعین وغیرہ شامل ہیں۔ 28صفر 1034ھ بوقت اشراق داعی اجل کو آپ نے لبیک فرمایا۔ آپ کی عمر رحلت کے وقت 63سال تھی۔ کتاب شرح صدر میں ہے کہ آپ کو غسل دیتے وقت یہ واقعہ پیش آیا کہ غسل دیتے وقت آپ کے دونوں ہاتھ مثل نماز کے قیام کے تھے ، کئی مرتبہ غسل دیتے وقت کھول دیئے گئے پھر ویسے ہی ہوگئے ۔ آپ کا چہرہ متبسم تھا۔ سنت ِ نبوی کے مطابق آپ کو کفن دیا گیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اِن کے فیضان علمی وروحانی سے حفظ ِ وافر عطا فرمائے ۔(بحوالہ:مکتوبات امام ربانی مجددالف ثانی، افکار مجدد الف ثانی اور عصر حاضر،ارمغان امام ربانی)