اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمزنے بجٹ 2019-20پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محصولات میں 33فیصد اضافے کا ہدف معاشی شرح نمو کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں ۔بجٹ کا بنیادی ڈھانچہ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں کی عکاسی کرتا ہے بجٹ پر تجزیہ کرتے وقت ہمیں موجودہ سیاسی پس منظر کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ کن مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ صنعت کاروں کا اس بجٹ میں کیا ری ایکشن ہے اور محصولات کیلئے کیا اقدام اٹھائے جار رہے ہیں کیونکہ آنے والے ہفتوں میں اس سلسلے میں بہت لے دے ہو گی ۔ نظر ثانی شدہ 2018-19کے ریونیو ہدف مزید 33%فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔لہذا ریونیو کے اس ہدف کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔آئی پی آر نے اپنے حقائق نامہ میں تجویز دی ہے کہ ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے کیلئے معاشی سرگرمیوں کو عروج پر لیجانا ہو گا ۔ اور اس پر ایک سخت ما نیٹرنگ سسٹم لاگو کرنا ہو گا ۔ حقائق نامہ میں اس خدشے کا ظہار کیا گیاہے کہ محصولات میں اضافے کے باوجود مالی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے 7.1 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے ۔جہاں تک محصولات کا تعلق ہے یہ براہ راست ٹیکسز کے ذریعے اکٹھا کیا جائیگا جس سے ایک عام شہری کی ویلفیئر اور معاشی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا تاہم اگر معاشی سرگرمیاں زیادہ ہو نگی تو ٹیکس بھی زیادہ سے زیادہ پیدا کیا جائے گا ۔