ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے پاکستان میں پیشہ وارانہ فرائض انجام دینے والے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں امن و امان اور استحکام کے ضمن میں آئی بہتری کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں۔ غیر ملکی نمائندوں سے ملاقات میں میجر جنرل آصف غفور نے پاک افغان سرحدی صورت حال سے آگاہ کیا۔ سرحد سے متعلق یہ تفصیلات اس لحاظ سے پاکستان کے لئے فائدہ بخش ہیں کہ امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ زلمے خلیل زاد امریکی حکومت اور عالمی ذرائع ابلاغ کو جو معلومات فراہم کریں گے ڈی جی آئی ایس پی آرکی بیان کردہ تفصیلات ان میں پاکستان کے موقف کو جگہ دلائیں گی۔ میجر جنرل آصف غفور نے غیر ملکی نمائندوں سے کہا کہ کامیاب آپریشنوں سے ملک کی سکیورٹی صورت حال بہت بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان اب استحکام کی طرف گامزن ہے۔ ہم سرحدوں کے پار خصوصاً افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری پاکستان کو یہاں مقیم اپنے رپورٹرز کے ذریعے دیکھتی ہے۔ یہ نمائندے اگر پاکستان میں حقیقی اور مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کریں تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان معاشی لحاظ سے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ نے سٹاک مارکیٹ سے لے کر عام آدمی کے چولہے تک کو متاثر کیا ہے۔ طویل مدت تک بدانتظامی کے شکار رہنے والے اداروں کو فعال بنانے کے لئے اصلاحات ترتیب دی جا رہی ہیں۔ حکومت نے بیرون ملک آباد پاکستانی کاروباری افراد اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے مراعاتی پیکیج متعارف کرانے کے لئے مشاورت کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ وطن عزیز جس نوع کے شدید معاشی مسائل کا شکار ہے انہیں مدنظر رکھ کر اصلاح احوال کی کوششوں کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے۔ روائتی طور پر پاکستان میں گزشتہ سات آٹھ برسوں کے دوران چین کی سب سے زیادہ سرمایہ کاری آئی۔ متحدہ عرب امارات اور پھر یورپی سرمایہ کاروں کا نمبر آتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ماضی میں جب کبھی سرمایہ کاری پالیسی تشکیل دی گئی اس میں حکمران خاندانوں کی کاروباری صلاحیت اور دلچسپی کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کار ریاست اور اداروں کی بجائے حکمران خاندانوں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں دلچسپی لیتے رہے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو میرٹ کی بنیاد پر پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت نہیں دی جاتی رہی۔ پاکستان کی ہر سابق حکمران جماعت اور خاندان کے اپنے مخصوص غیر ملکی سرمایہ کار گروپ ہیں۔ جب ان میں سے کسی جماعت کی حکومت آتی ہے تو ان کے اتحادی غیر ملکی سرمایہ کار فائدہ اٹھانے پہنچ جاتے ہیں۔ اس وقت اگر سرمایہ کاروں کو ریاست سے معاملات طے کرنے کی راہ دکھائی جاتی تو صورتحال خاصی مختلف ہوتی۔ سکیورٹی اور سرمایہ کاری کے درمیان لازم و ملزوم والا تعلق ہے۔ دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جہاں کاروبار کے بے تحاشہ مواقع ہیں مگر امن و امان کی ابتر حالت کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار ادھر کا رخ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کاروباری شخص یا سرمایہ کار جانتا ہے کہ امن سرمایہ کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ جہاں امن نہیں ہوتا منافع کے ساتھ ساتھ اصل زر ڈوبنے کا خدشہ رہتا ہے۔ کئی افریقی ممالک اس کی مثال ہیں۔ ہمارے ہمسایہ میں افغانستان ہے جہاں قیام امن کے لئے پاکستان خلوص نیت کے ساتھ کوششیں کرتا رہا ہے۔ وہاں ڈالر کی ریل پیل ہو رہی ہے مگر کوئی ملک افغانستان میں براہ راست سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لیتا۔ مسلح تنازعات والے علاقوں میں سرمایہ کاری کے لئے معروف سرمایہ کار بھی دوسرے ممالک سے تیار مصنوعات افغانستان کو سپلائی کرنا پسند کرتے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی برادری کا ساتھ دیا۔ پاکستان کے 75ہزار شہری وجوان اس لڑائی میں شہید ہوئے۔ افغانستان سے ملحق سرحدی علاقے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے بن چکے تھے۔ ان علاقوں میں پرامن افراد کے لئے زندگی کٹھن بنا دی گئی تھی۔ پاک فوج نے سوات‘ جنوبی وزیرستان‘ شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں آپریشن کئے۔ ان آپریشنوں کے نتیجے میں دہشت گردی بڑی حد تک کم ہو گئی۔ امن قائم ہونے کے بعد قبائلی علاقوں کو قبائلی اضلاع کا درجہ دیدیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ قبائلی اضلاع کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم نے وہاں ایک یونیورسٹی‘ کیڈٹ کالج اور متعدد دوسرے منصوبوں کا اعلان کیا۔ ان علاقوں میں کاروبار کے فروغ کے سینکڑوں دکانوں پر مشتمل ایک جدید مارکیٹ بنائی جا چکی ہے۔ جہاں سے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے لئے سامان بھیجا جا سکتا ہے۔ یقینا پاکستان کے حساس شمار ہونے والے علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال میں جو بہتری آئی ہے وہ غیر ملکی نمائندوں کے علم میں ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی بات پر یقین کرنے کا مواد ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ خطے کے ممالک سے پرامن تعلقات پاکستان کی ترجیح ہیں۔ سی پیک کی تکمیل کا آغاز ہو چکا ہے۔ گوادر بندرگاہ اپنا کام شروع کر چکی ہے۔ کئی ماہ قبل چین کا ایک تجارتی قافلہ آزمائشی طور پر سنکیانگ سے سفر شروع کر کے گوادر پہنچا۔ پاکستان دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ اپنے مشرقی اور مغربی ہمسایوں کے اشتعال انگیز سلوک کا نشانہ بنتا رہا ہے مگر اب حالات میں تبدیلی ظاہر ہو رہی ہے۔ سی پیک کی حفاظت کے لئے افواج پاکستان کا پورا ایک بریگیڈ مختص کر دیا گیا ہے۔ مسلح افواج نے عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے بعد معاشی اور سیاسی استحکام کے لئے حکومت کی مدد کی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے غیر ملکی نمائندوں کے سامنے پاکستان کی جو تصویر رکھی ہے وہ امید افزا اور پرامن ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کی شناخت کاروبار دوست ملک کے طور پر مستحکم کی جا سکے گی۔