اسلام آباد(خبر نگار)سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ہے محکمہ اینٹی کرپشن کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کے لئے چیف سیکرٹری کی اجازت کی ضرورت نہیں، محکمہ کے پاس اختیار نہیں ہوگا تو حیثیت کیا رہ جائیگی،کارروائی کیلئے وزیر اعلی سے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے ۔ محکمہ اینٹی کرپشن کے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ڈائریکٹر جنرل محکمہ اینٹی کرپشن حسین اصغر نے بتایا ڈی جی کے اختیارات چیف سیکرٹری کو دے دیئے گئے ہیں،صوبائی حکومت کے قواعد کے مطابق ڈی جی اینٹی کرپشن 18 گریڈ کے افسر کیخلاف بغیر اجازت کارروائی نہیں کر سکتا،اس کے لئے وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری کی پیشگی اجازت لازمی ہوگی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت متعلقہ قواعد معطل کر چکی ہے ،محکمہ اینٹی کرپشن اپنے اختیارات انجوائے کرے ۔اصغر خان کے لواحقین نے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے مقدمے کی فائل بند کرنے کی سفارش کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے انکوائری جاری رکھنے اور کیس انجام تک پہنچانے کی استدعا کردی۔سپریم کورٹ میں اصغر خان کی اہلیہ، علی اصغر خان، نسرین احمد خٹک اور شیریں اعوان کی جانب سے مشترکہ طور پر ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دا خل کرایا ۔ نوے کی دہائی میں سیاستدانو ں میں پیسوں کی تقسیم کے حوالے سے اصغر خان کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی انکوائری ختم نہیں ہونی چاہئے ، اصغر خان کا خاندان کیس کا حتمی انجام چاہتا ہے ، کیس کے ٹرائل کے بعد سامنے آنے والا نتیجہ پاکستانی عوام کے سامنے رکھا جائے ۔