لاہور(سلیمان چودھری ) محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ نے سابقہ دور حکومت کے 6موبائل ہیلتھ یونٹس والے مہنگے منصوبے سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 6 موبائل ہیلتھ یونٹس پرائیویٹ کمپنی سے واپس لیکر کر میڈیکل یونیورسٹیوں کوزبردستی دیئے جائیں گے ۔ میڈیکل یونیورسٹیوں کے ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف ان پر کام کرے گا ۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پر اٹھنے والے تمام اخراجات متعلقہ میڈیکل یونیورسٹیاں خود برداشت کریں گی،محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ صرف اپنے ڈرائیور فراہم کرے گا ، حکومت کی جانب سے 2010 میں ایک موبائل ہیلتھ یونٹ 4کروڑ53لاکھ میں خریدا گیا۔محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک مہنگا منصوبہ ہے ، ایک موبائل ہیلتھ یونٹ کو چلانے کا خرچ ایک بنیادی مرکز صحت کوچلانے سے تین گنا زائد آتا ہے ،پرائیویٹ کمپنی سے ایک موبائل ہیلتھ یونٹ چلانے کے لیے سالانہ 2کروڑ46لاکھ روپے کا معاہدہ طے کیا، پرائیوٹ کمپنی میڈی ایرج فنڈز کی عد م دستیابی کی وجہ سے ان کو نہیں چلا رہی جس کی وجہ سے یہ بند پڑے ہیں ۔ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی سربراہی میں ایک اجلاس ہواجس میں سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر زاہد زمان سمیت دیگر افسروں نے شرکت کی ،روزنامہ 92نیوز کو حاصل کردہ میٹنگ منٹس کے مطابق ان چھ موبائل ہیلتھ یونٹس سے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کی جانب چھڑانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس حوالے سے محکمہ قانون سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے تا کہ پرائیویٹ کمپنی سے کنٹریکٹ ختم کرنے کے حوالے سے قانونی مسائل کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔2 موبائل ہیلتھ یونٹ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور ایک ایک فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی ، فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی، نشتر یونیورسٹی ملتان اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے سپرد کیاجائے گا،باقی 14موبائل ہیلتھ یونٹس کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور ان موبائل ہیلتھ یونٹس کو چلانے کے حوالے سے پالیسی تشکیل دی جائے گی۔