کراچی سے روزنامہ 92کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ کے محکمہ تعلیم میں 20ہزار گھوسٹ ملازمین ہیں جبکہ 35ہزار اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ وطن عزیز کا کوئی بھی محکمہ ان ’’گھس بیٹھیے‘ ‘ملازمین سے خالی نہیں ہے اور اس کا ذمہ دار ماضی کی حکومتوں‘ سیاستدانوں اور ان پارٹیوں کو ٹھہرایا جانا چاہیے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار حکومت میں سیاسی بنیادوں اور اقربا پروری کا مظاہرہ کرکے اپنے اپنے لوگوں کو نوازا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ گزشتہ 10برس سے صوبہ سندھ میں 18کھرب روپے خرچ کرنے اور تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذکے باوجود اساتذہ کی کمی پوری نہیں کی جا سکی لیکن ہزاروں گھوسٹ ملازمین کو بھرتی کر کے تنخواہوں کی مد میں اربوں روپے برباد کر دیے گئے ۔ رواں سال ستمبر میںبھی روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پنجاب ‘سندھ اور بلوچستان میں گزشتہ پانچ برس کے دوران 82ہزار گھوسٹ نوکریاں دی گئیں یہ ملازمین نہ دفاتر میں آتے ہیں نہ حاضریاں لگاتے ہیں صرف انہیں نوکری کا لیٹر جاری کر دیا جاتا ہے جس پر وہ اربوں روپے کی تنخواہیں لے کر گھر چلے جاتے ہیں ۔دوسری طرف ملازمتوں کے اصل حق دار اورمیرٹ رکھنے والے ہزاروں بے روزگار نوکری کے حصول کے لئے دھکے کھاتے رہتے ہیں۔ وفاق اور تمام صوبوں کی حکومتوں کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لے کر ان گھوسٹ ملازمین کو فارغ کرنا چاہئے تاکہ ان ملازمتوں پر میرٹ کے حامل ہزاروں بے روزگاروں کو ملازمتوں کے حصول کے مواقع میسر آ سکیں