پاکستان ریلوے میں پہلی بار پیر کے روز سے گریڈ ایک سے پانچ تک کی آسامیوں کے لئے قرعہ اندازی پر بھرتیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سارے عمل سے میڈیا کو دور رکھا گیا ہے۔ اگرچہ بھرتیوں کے لئے قرعہ اندازی کا طریقہ کار بالکل نیا ہے اور ممکن ہے اس سے ملازمتوں کے لئے اقرباء پروری کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری تھا کہ اس عمل کے دوران شفافیت یقینی بنانے کیلئے میڈیا کو بھی شامل رکھا جاتا تاکہ کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہ ملے۔ قرعہ اندازی کا طریقہ اس حد تک تو بہرحال ایک اچھی پیش رفت ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بھی ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے جو اپنی اہلیت کے باوجود اقرباء پروری کے رجحان کی زد میں آ کر محروم رہ جاتے تھے۔ بعض ماہرین قانون نے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ یہ طریقہ کار بنیادی حقوق سے متصادم ہے جن کا ذکر کرتے ہوئے آئین میں کہا گیا ہے کہ موزوں ملازمت کے لئے موزوں امیدوار کا انٹرویو ضروری ہے۔بعض ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ قرعہ اندازی کا طریقہ کار ملازمتوں کے حوالے سے شفافیت کے عمل میں شکوک کا باعث بنے گا۔ لہٰذا ان آراء کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ قرعہ اندازی کے طریقہ کار کے دوران بھرتیوں میں میرٹ اور شفافیت کا عمل کسی طور بھی متاثر نہیں ہونا چاہئے۔