لاہور سے روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ کے مطابق محکمہ آبپاشی پنجاب کے حکام کی مبینہ نااہلی‘ مختلف شعبوں کی تنظیم نو کے دوران ناقص حکمت عملی کے باعث محکمے کے 2ہزار سے زائد ملازمین تنخواہوں سے محروم ہو گئے ہیں‘ ہمارے ہاں رجحان یہ ہے کہ پہلے تو مختلف محکموں میں اضافی بھرتیاں کر لی جاتی ہیں، جو عموماً سیاسی وابستگیوں اور اقربا پروری پر مبنی ہوتی ہیں، جب ملازمین کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے، تو انہیں ادھر ادھر کھپانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں ان ملازمین کے لئے تنخواہوں کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے۔محکمہ آبپاشی میں بھی یہی ہوا کہ محکمہ کے کئی شعبوں میں پہلے اضافی بھرتیاں کر لی گئیں، پھر 2500ملازمین کو دوسرے شعبوں میں ضم کردیا گیا ‘اب انہیں تنخواہوں کی ادائیگی مسئلہ بن گئی ہے۔ اگر ہر محکمہ میں بھرتیاں ملازمتوں کی تعداد اور محکمے کی ضرورت کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں، تو ایسی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے تاکہ بعدازاں محکمہ کو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے‘ بہرحال اس وقت محکمہ آبپاشی کو مہنگائی کے اس دور میں ان ملازمین کی مشکلات کے ازالہ کے لئے ان کو تنخواہوں کی ادائیگی کا فوری او ر یقینی حل تلاش کرنا چاہئے تاکہ ان چھوٹے ملازمین کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں اور وہ مزید مالی مشکلات کا شکار نہ ہوں۔