آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بارے بات کرنے سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز لندن میں ہوتیں تو (ن) لیگ کبھی ایسا فیصلہ نہ کرتی، ہاشمی صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ سویلین بالادستی کی جنگ نوازشریف نے بھٹو سے زیادہ لڑی، انہوں نے کہا اب فوج کو مارشل لاء کی ضرورت نہیں کہ جنرل باجوہ تین سال فوج کی قیادت کریں گے، مخدوم جاوید ہاشمی کاالمیہ یہ ہے کہ وہ اپنے وسیب کے حقوق کی کبھی بات نہیں کرتے جبکہ میاں نوازشریف اور (ن) لیگ کی خوشامد میں مبالغہ آرائی کی حدیں بھی پار کر جاتے ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حالیہ ترمیم میں حمایت کا فیصلہ ’’آل شریف‘‘ کا فیصلہ ہے، جس کے سربراہ میاں نوازشریف ہیں، مریم کی آپ بات کرتے ہیں تو کیا مریم کے منہ میں زبان نہیں؟ وہ خود لب کشائی کیوں نہیں کرتیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ سویلین بالا دستی کی جنگ نوازشریف نے بھٹو سے زیادہ لڑی، ضیاء الحق سے لیکر آج کے آئینی ترمیمی بل تک دیکھیں تو آپ کی بات میں بعد المشریقین ہے ’’سویلین بالادستی کی جنگ نے بھٹو سے زیادہ لڑی‘‘ کے جملے پر ہنسی آتی ہے کہ ایک طرف بھٹو اس جنگ میں سولی چڑھ جاتے ہیں دوسری طرف آل شریف سعودی عرب اور انگلینڈ کے محلات میں پہنچ جاتی ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اپوزیشن خصوصاً ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کو یوٹرن خان کا لقب دیا ہوا ہے ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ عمران خان جو بات کرتے ہیں اس سے مکر جاتے ہیں وہ اسے یوٹرن کا نام دیتے ہیں ۔ آرمی ایکٹ پر آئینی ترمیم کے مسئلے کو دیکھا جائے تو اپوزیشن نے بھی جو کچھ کہا عین موقع پر یوٹرن لے لیا ۔ آرمی ایکٹ کے مسئلے پر اپوزیشن نے اتنا بڑا شور مچایا ، اب لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہی کچھ کرنا تھا تو پھر شور مچانے کا کیا فائدہ ؟ جبکہ دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ شور اس لئے مچایا گیا کہ اپوزیشن نے سہولتیں لینی تھیں اور سودے بازی کی راہ ہموار کرنی تھی ۔ ن لیگ نے اپنے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار علی خان کو اس بناء پر ایک طرف کیا کہ وہ فوج کے بارے میں گوشہ نرم رکھتے تھے، اب آرمی ایکٹ میں آئینی ترمیم پر جس طرح ن لیگ نے جس عمل کا مظاہرہ کیا ، نثار علی خان بھی تو یہی کہتے تھے ۔ اب بتایا جائے کہ کیا نثار علی خان غلط تھے ؟ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کہتی تھی کہ آرمی ایکٹ پر حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے ، یہ جماعتیں یہ بھی کہتی ہیں کہ موجودہ حکمران سلیکٹڈ ہیں یعنی یہ غیر منتخب ہیں، ان کو دھاندلی کے ذریعے لایا گیا، ہم ان کو تسلیم نہیں کرتے، سوال یہ ہے کہ اگر یہ اسمبلی اور یہ حکمران سلیکٹڈ ہیں تو پھر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی آئینی ترمیمات کے مسئلے پر ان کے ساتھ کیوں ہیں؟ وہ حکومت کا ساتھ کیوں دے رہے ہیں، تحریک انصاف کیلئے بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ والے چور اور ڈاکو ہیں، ہم ان کو نہیں چھوریں گے، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ والے کہتے ہیں کہ صوبے کے مسئلے پر حکومت ہم سے مذاکرات کرے اور صوبے کا بل اسمبلی میں لائے ہم ساتھ دیں گے۔ تحریک انصاف نہ مذاکرات کیلئے آمادہ ہو ئی اور نہ صوبے کیلئے آئینی ترمیم کا بل اسمبلی میں لائی، یہ سب کچھ کیسے ہوا قوم کو اس بارے اعتماد میں لیا جائے ۔ اسمبلی کو آئین سازی کا اختیار او ر حق حاصل ہے ، آرمی ایکٹ پر آئینی ترمیم ہونی چاہئے یا نہیں؟ وسیب کو اس سے غرض یا سروکار نہیں، اختلاف والا معاملہ بھی نہیں، اگر اختلاف ہے تو اس بات سے کہ آپ کو صوبے کی بات کی جائے تو حکمران کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں، سوال اتنا ہے کہ اب اکثریت کہاں سے آگئی؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب آپ فاٹا نشستوں میں اضافہ کر رہے تھے تو اس وقت اکثریت کہاں سے آگئی تھی؟ سیاستدانوں کے اس دوغلے پن سے کیا یہ تاثر پیدا نہیں کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ اس صورتحال سے وسیب میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے اور لوگ مایوس ہو رہے ہیں ۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر ان کو صوبے کی بات کی جائے تو یہ کہتے ہیں کہ سرائیکی جماعتیں صوبہ بنانا چاہتیں ہیں تو ووٹ لیکر اسمبلی میں آئیں جبکہ یہ بات ہی سرے سے غلط ہے کہ اسمبلی میں پہنچنے والی تحریک انصاف نے صوبے کے نام پر ووٹ لیے، اپنے منشور میں لکھا کہ ہم صوبہ بنائیں گے۔ صوبے کے مسئلے پر ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ بنا، پھر یہی صوبہ محاذ 100 دن میں صوبہ بنانے کے تحریری معاہدے پر تحریک انصاف میں ضم ہوا، 100 دن تو کیا پانچ سو دن گزر گئے کہاں ہے صوبہ؟ آپ لوگ سرائیکی جماعتوں کو چھوڑیں، اپنا تو جو اب دیں کہ آپ نے صوبے کے نام پر ووٹ لیکر اپنا وعدہ پورا کیوں نہیں کیا؟ آرمی ایکٹ مسئلے پر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھی حکومت کا ساتھ دیا، یہ سوال ان سے بھی ہے کہ انہوں نے بھی صوبہ بنانے کا وعدہ کیا اور اپنے پارٹی منشور میں لکھا کہ ہم برسراقتدار آکر صوبہ بنائیں، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ برسراقتدار آئیں مگر صوبہ نہ بنا، اس کا جواب دہ کون ہے؟ سرائیکی جماعتیں نصف صدی سے صوبے کیلئے پر امن جدوجہد کر رہی ہیں، سرائیکی دنیا کی واحد پر امن تحریک ہے جس میں دکان کا ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا۔ صوبے کی ڈیمانڈ معقول ترین جواز پر ہو رہی ہے کہ ان کا اپنا صوبہ تھا اور صوبہ ملتان صوبہ لاہور سے بڑا تھا کہ اس کی سرحدیں رائیونڈ تک پھیلی ہوئی تھیں، رنجیت سنگھ کے بعد انگریز سامراج نے صوبہ لاہور کو پنجاب کا نام دیا اور پنجاب کو وفاداری کا صلہ دینے کیلئے صوبہ ملتان کو پنجاب کا حصہ بنا دیا، سرائیکی جماعتیں صوبے کی ڈیمانڈ کرتی ہیں اور دلائل بھی معقول وزنی پیش کرتی ہیں تو ان پر طرح طرح کے اعتراض کئے جاتے ہیں جبکہ اصل بات یہ ہے کہ تھوڑی دیر کیلئے سرائیکی جماعتوں کو چھوڑ دیتے ہیں کہ سرائیکی جماعتوں کو تمہاری طرف سے انائونس کئے گئے صوبے کے نام ’’جنوبی پنجاب‘‘ پر اعتراض ہے سرائیکی جماعتوں کو تحریک انصاف کی طرف سے انائونس کی گئی صوبے کی حدود پر بھی اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آپ نے جو وعدہ کیا، آپ نے صوبے کا جو نام دیا اور صوبہ کیلئے جو حدود مقرر کیں، اس کی تکمیل کیلئے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے؟ اب جبکہ اسمبلی میں اتحاد و اتفاق کا ماحول بن چکا ہے تو بہت ضروری ہے کہ حکمران جماعت قدم بڑھائے اور تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر اپنے منشور کے مطابق صوبے کا مسئلہ حل کرے کہ یہ مسئلہ کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ وسیب کے کروڑوں افراد کیساتھ ساتھ پاکستان کے استحکام اور وفاق کے توازن کا بھی ہے۔