اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)وزارت داخلہ کے تحفظات کے باوجود وفاقی حکومت نے ملک میں مساوی نظام تعلیم اوردینی مدارس کو 1ارب 80کروڑ روپے کی لاگت سے قومی دھارے میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ اصلاحات کے ذریعے دینی مدارس کو فرقہ بازی کی ترویج،ریاست اور دیگر مسالک کے خلاف نفرت انگیزی سے روکنااورآمدنی اور اخراجات میں شفافیت لائی جائے گی۔ مدارس کی فنڈنگ، ذرائع آمدن اور اخراجات کو مانیٹر کرنے کیلئے وفاقی وزارت تعلیم دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹ کھلوائے گی۔مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے 12ریجنل دفاتر قائم کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے ۔92نیوز کوموصول سرکاری دستاویز کے مطابق ملک میں پبلک،پرائیویٹ اور مدارس کا متوازی تعلیمی نظام معاشرتی تقسیم کا باعث بن رہا ہے ۔متوازی نظام تعلیم سے تفریق پیدا ہو رہی ہے ۔قومی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے نیا نصاب تیار کیا گیا ہے جس میں مدارس سمیت تمام سٹیک ہولڈرزکو شامل کیا گیا ہے ۔دینی مدارس میں اصلاحات تعلیمی نظام کا اہم جزو ہے ۔دینی مدارس کی اصلاحات نیشنل ایکشن پلان کا اہم جزو ہے اور وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک سونپا گیا تھا۔ وزیراعظم کے سربراہی میں منعقد اہم ترین اجلاس کے دوران وزیرداخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے مطلوبہ مشاورت نہیں کی گئی۔ دستاویز کے مطابق تمام مدارس وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کے ساتھ رجسٹر ہوں گے اور وزارت تعلیم مدارس کے تمام کوائف اور متعلقہ معلومات اکٹھی کرنے کی ذمہ دار ہو گی،وہ مدارس جو وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کے ساتھ رجسٹر نہیں ہوں گے انہیں ملک میں کام نہیں کرنے دیا جائے گا اور جو مدارس شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ بینک میں اکاؤنٹ کھولنے کے حوالے سے مدارس کی رہنمائی کرے گی۔مدارس کو غیرملکی طلبا کو داخل کرنے کی اجازت ہو گی، ویزے کے میعاد 9سال سے زیادہ نہیں ہو گی ۔تمام مدارس اگلے پانچ سال کے دوران اپنی ذیلی کمیٹیوں کے ذریعے میٹرک اور ایف اے کے ضروری مضامین متعارف کرائیں گے ۔مدارس کے طلبا کو اجازت دی جائے گی کہ وہ فیڈرل بورڈ یا ملک کے کسی اور تعلیمی بورڈ کے ذریعے امتحان دے سکیں۔وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کی جانب سے تمام حکومتی اداروں کو ہدایات جاری کی جائیں گی کہ جو مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت پہلے سے رجسٹر ڈ ہیں انہیں نئے رجسٹریشن کے نظام کے آنے تک قبول کیا جائے ۔دینی مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کے ماتحت کر دیا گیا ہے ۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیئس ایجوکیشن اور 12ریجنل دفاتر کے قائم کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے ۔ پنجاب،ملتان،لاہور،راولپنڈی، کراچی،سکھر،خیبر پختونخواہ،پشاور،ڈی آئی خان،سوات،کوئٹہ،لورا لائی،مظفر آباداور گلگت میں ریجنل دفاتر قائم کئے جائینگے ۔ وفاقی وزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ اس حوالے سے اپنے وسائل کو پھر سے ترتیب دے گی۔وزارت کو مالی سال 2019-20کیلئے 58کروڑ روپے کی ضرورت ہو گی۔