واشنگٹن (نیٹ نیوز، اے ایف پی) عالمی ذرائع ابلاغ میں کہا جا رہا ہے کہ افغان امن مذاکرات اور طالبان رہنماؤں سے ملاقات منسوخ کرنے سے ٹرمپ انتظامیہ کی اندرونی تقسیم کھل کر سامنے آئی ہے اور اس سے انتظامیہ کے اندر جاری کشمکش کا اندازہ بھی ہوتا ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ٹرمپ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کے درمیان اس مسئلے پر شدید تناؤ پایا جاتا ہے ۔ مائیک پومپیو مذاکرات کے حامی جبکہ جان بولٹن شدید مخالف ہیں۔بولٹن کا ماننا ہے کہ پومپیو انہیں افغانستان پر پالیسی سازی کے عمل سے باہر کرنا چاہتے ہیں۔وائٹ ہاؤس حکام مذاکرات کی منسوخی کو بولٹن کی فتح سے منسوب کر رہے ہیں۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں ایک گروپ معاہدے کیخلاف تھا اور اس نے معاہدے کی شرائط تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، وائٹ ہاؤس بھی تقسیم ہو کر رہ گیا جسکے دباؤ میں آ کر صدر ٹرمپ نے فوری طور پر مذاکرات معطل کر دئیے ۔علاوہ ازیں امریکی تجزیہ کاروں اور ناقدین نے کہا ہے کہ اس اعلان پر عالمی برادری حیرت زدہ رہ گئی ، درحقیقت اس اقدام سے امریکہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور اسکا اعتبار کھو گیا ہے ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات منسوخی کے پیچھے امریکہ کی وہ لابی ہے جو سمجھتی ہے یہ معاہدہ طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے اور معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں امن ممکن نہیں ۔ افغان تجزیہ کار نجیب ننگیال کے مطابق تینوں فریقوں میں امن معاہدے پر ابہام پایا جاتا ہے اور کسی کو بھی معاہدے پر یقین نہیں جبکہ لگتا ہے طالبان میں بھی معاہدے پر اتفاق نہیں ہے ۔پاکستان کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کے مطابق امن مذاکرات کی منسوخی کی وجہ امریکہ کے اندر امن معاہدے کیخلاف دباؤ ہے ۔