رفح، تل ابیب (نیوز ایجنسیاں، نیٹ نیوز) اسرائیل نے حماس کو مذاکرات کرنے پر مجبور کرنے کیلئے اوچھا حربہ اپناتے ہوئے جنوبی غزہ پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں جہاں 10لاکھ سے زائد بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں،صیہونی لڑاکا طیاروں نے عوامی رش والے کئی مقامات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں مزید 37فلسطینی شہید ہوگئے ۔ بمباری میں شدت آنے کے بعد ہزاروں افراد جانیں بچانے کیلئے ایک بار پھر علاقہ چھوڑ کر وسطی غزہ کی جانب جا رہے ہیں۔دریں اثنا اسرائیل کی بربریت اور ظلم کے باعث 38ہزار شہادتوں اور غزہ کی پٹی کے مکمل کھنڈر بن جانے کے باوجود جرات مند فلسطینی قوم کے حوصلے بلند ہیں اور اپنی آزاد ریاست کے حصول کیلئے مسلح جدوجہد کی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی سنٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ کے تازہ سروے کے مطابق اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے حصول کیلئے 57فیصد افراد نے مسلح جدوجہد کی حمایت کی، یہ شرح گزشتہ سروے کے مقابلے میں 8 فیصدزیادہ ہے ۔ حماس کی مقبولیت 6فیصد اضافے کے ساتھ 40فیصد جبکہ صدر محمود عباس کی جماعت فتح کی مقبولیت 20فیصد ہے ۔جی سیون رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کیلئے امریکی منصوبے کی حمایت کی ہے ۔اٹلی میں سربراہی اجلاس کے موقع پر رکن ممالک کے سربراہان نے اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی والے اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی جلد ہونے کا امکان نہیں لیکن میں ناامیدنہیں ہوں۔