کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)تحقیقاتی اداروں نے اینکر پرسن سمیت دو افراد کے قتل کے واقعے میں ملوث عاطف زمان کے نیٹ ورک کے مرکزی کردار کی تلاش شروع کردی۔پولیس نے تین دن بعد واقعے کا تیسرا مقدمہ بھی درج کرلیا۔ نیٹ ورک سے جڑے ایک اورعینی شاہد کا بیان قلم بندکرلیا گیا جبکہ مختلف نجی ٹی وی چینلز کے اینکرپرسن ، بینکرز اور بلیک منی کو وائٹ کرنے والے افراد کے بھی بیانات قلم بند کئے جائینگے ۔ پولیس نے مرکزی ملزم عاطف زمان کے دفتر سے دستاویزات و دیگر سامان تحویل میں لے لیا۔تحقیقاتی اداروں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اب تک کی جانے والی تفتیش میں ملزم عاطف زمان اور متاثرہ افراد ٹائروں کے کاروبار کے حوالے سے پولیس اور اداروں کو مطمئن نہیں کرسکے ۔یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ عاطف زمان کا ٹائروں کا کاروبا ر تھا بھی کہ نہیں۔ عاطف زمان کے دفتر سے جو سامان تحویل میں لیا گیا ہے اس میں کہیں یہ ثابت نہیں ہورہا کہ عاطف زمان کا کوئی کاروبار تھا۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ عاطف زمان بمشکل میٹرک پاس ہے اور وہ کسی ایسے نیٹ ورک سے جڑا ہے جو اسے گائیڈ لائن دیتا تھا اور عاطف اس کی ہدایات پر لوگوں کو لالچ دے کر ان سے بھاری رقم اینٹھ لیتا تھا ۔ عاطف زمان کچھ سال پہلے کشمیر کالونی میں رہتا تھا اور وہیں پر ایک ٹائر شاپ پر ملازم تھا۔چند ماہ قبل اس نے اپنی رہائش ڈیفنس میں منتقل کر لی تھی ، ملزم نے واردات سے چند روز قبل اپنے اہل خانہ کو اسلام آباد بھیج دیا تھا ، تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن طارق رزاق دھاریجو کا کہنا تھا کہ ملزم عاطف زمان منی لانڈرنگ سمیت اسمگلنگ کے مذموم دھندے میں ملوث تھا ،جس میں لگائی گئی رقم اربوں میں ہے ۔ اسمگلنگ کے دھندے میں 80سے زائد شراکت دار ملوث ہیں جنہوں نے کروڑوں کی سرمایہ کاری انتہائی پرکشش منافع کی لالچ میں کی تھی ، مقتول مرید عباس اور دوستوں نے ساڑھے 7کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہو ئی تھی ۔ ملزم عاطف زمان اپنے علاقے بالاکوٹ میں ڈبل شاہ کے نام سے جانا جاتا تھا، ملزم کے خلاف منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے دھندے کے حوالے سے ایک الگ تحقیقات چل رہی ہے ، مقتول مرید عباس اور دیگر کا اعتماد چند ماہ قبل ملزم عاطف زمان سے اس وقت اٹھ گیا تھا جب وہ اچانک لاپتہ ہو گیا تھا اور اس وقت اس کی لوکیشن بلوچستان کے ایک دورافتادہ علاقے سے آئی تھی ،کچھ عرصے بعد ملزم دوبارہ مریدعباس اور دیگر انویسٹرز سے رابطے میں آیا تھا،واپس آکر ملزم نے شراکت داروں کو بتایا کہ خیبر پختوانخواہ سے واپسی پر 25 کروڑ روپے لوٹ لیے گئے ، ملزم میڈیا سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 30سے زائد افراد سے کروڑوں روپے لے چکا ہے ،ملزم نے انفینیٹی کمپنی کے نام پر اسمگلنگ کا کاروبار شروع کررکھا تھا۔ تفتیش کے دوران یہ بھی معلو م ہوا کہ عاطف زمان کی کروڑوں کی اسمگلنگ کی کھیپ افغانستان بارڈر پر پکڑی گئی ،جبکہ کروڑوں روپے جو کہ منی لانڈرنگ کے زریعے افغانستان منتقل کیے جارہے تھے وہ بھی پکڑے گئے ،اس مالی بحران کی وجہ سے ملزم اپنے پارٹنرز اور انوسٹرز کو منافع کی رقم نہیں دے سکا،دوسری جانب ایک اور تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم نے اسی بنا پر مبینہ طور پر تنگ کرنے والے 5 انوسٹرز کو ایک ہی وقت میں ڈیفنس میں مختلف مقامات پر بلوا لیا تاکہ انہیں قتل کرکے جان چھڑا سکے ،تاہم وہ 2افراد کے قتل کے بعد پکڑاگیا اور 3 انویسٹرز بچ گئے ۔ملزم عاطف زمان نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ میرے کاروبار میں کچھ بزنس مین اور میڈیا انڈسٹری کے افراد نے سرمایہ کاری کی ،مالی پوزیشن ٹھیک نہیں تھی رقم واپس نہیں کرسکتا تھا،، دستاویزی ثبوت میرے پاس موجود نہیں ،رقم کی واپسی پر تین نیوز اینکرز سے جھگڑا بھی ہوا تھا ، درخشاں پولیس نے ڈیفنس میں دو دن قبل مرید عباس سمیت 2 افراد کے قتل کے معاملے پرملزم عاطف زمان کے خلاف ایک اور مقدمہ غیر قانونی اسلحہ کی دفعات کے تحت درج کرلیا۔نجی ہسپتال میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ایس ایس پی طارق دھاریجو نے کہا کہ ملزم عاطف زمان نے کروڑوں روپے کی ہیرا پھیری کی جبکہ قتل کی وارداتوں کا بھی اعتراف کرلیا ۔انہوں نے کہا کہ فراڈ 5 لاکھ سے شروع ہوا جو کروڑوں تک چلا گیا ۔لوگ منافع کی لالچ میں جڑتے چلے گئے ،ملزم عاطف ایک جگہ سے پیسے لے کر دوسری جگہ دیتا رہا ،مزید کلائنٹس آنا بند ہوئے تو ملزم پھنستا چلا گیا ،ملزم عاطف جب میٹرک میں فیل ہوا تب بھی خودکشی کی کوشش کی تھی ۔ملزم نے 5 افراد کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔