وسیب کی مردم خیز دھرتی میں بڑے بڑے علماء اور صلحاء پیدا ہوئے۔ ان میں ایک نام عاشق رسولؐ حضرت مولانا مفتی عبدالواحد کا ہے۔ وہ نہایت سادہ مزاج، عاجزی و انکساری کے پیکر اور علم کے سمندر تھے۔ آپ کے ہزاروں شاگرد پورے ملک میں علمی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ مفتی عبدالواحد جام پور (خان پور) میں میاں محمد کے ہاں 1910ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ خان پور کے نواحی قصبہ مکھن بیلہ میں سراج الفقہا کا پورے ہندوستان میں شہرہ تھا۔ آپ نے اُن کی شاگردی اختیار فرمائی اور سراج الفقہا حضرت مولانا سراج احمد مکھن بیلوی کے صاحبزادے مفتی عبدالسبحان سے بھی اسباق پڑھے اور درس نظامی کی سند حاصل کی۔ لاہور کے دارالعلوم حزب الاحناف سے دورہ حدیث مکمل کیا۔ 1957ء میں علامہ مولانا سراج احمد درانی نے خان پور میں جامعہ اسلامیہ سراج العلوم کی بنیاد رکھی تو مفتی عبدالواحد صاحب نے مل کر اس جامعہ کی تعمیر و توسیع کا کام کیا اور اپنی وفات تک جامعہ میں درس وتدریس اور نظامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور دارلا فتاء کے وہ مفتی رہے۔ مفتی عبدالواحد صاحب بہت بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی شفیق انسان تھے۔ آپ کا وصال 30 مئی 1984ء کو خان پور میں ہوا۔ مفتی عبدالواحد قادریؒ کے حوالہ زندگی ایک عرصے تک اوجھل رہے۔ مدرسہ سراج العلوم کے ایک نوجوان ڈاکٹر احمد رضا نے مفتی صاحب پر پی ایچ ڈی کی اور اُن کا مقالہ شائع ہوا تو بہت کچھ جاننے کو ملا۔ صاحبزادہ خورشید گیلانیؒ بہت بڑے ریسرچ سکالر تھے اور پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں تحقیق کے حوالے سے اُن کا ایک نام ہے۔ وہ اپنے استاد محترم کے بارے لکھتے ہیں کہ مفتی عبدالواحد صاحب کا حلقہ احترام و عقیدت بے حد وسیع تھا۔ آپ کا مزاج دل آزاری کا نہیں بلکہ دلداری کا تھا۔ ہر ایک کیلئے دامن شفقت پھیلا ہوا اور دروازہ دل کھلا ہوا ۔ یہی عادت ایک سچے عالم اور پکے صوفی کی ہوتی ہے۔ آپ کی زیارت کرکے اگلی شرافت کے نمونے آنکھوں میں پھر جاتے ، الفاظ نرم، لہجہ شائستہ، انداز دھیما، بات سادہ، یہ آپ کی شخصیت کے مختلف پہلو تھے۔ ہر وقت با وضو رہنا، نماز با جماعت کا اہتمام کرنا، نوافل کا اہتمام کرنا اور کم بولنا، مفتی صاحب کی زندگی کا قرینہ تھا۔ (بحوالہ : روزنامہ نوائے وقت لاہور 20جنوری 1993ئ) ڈاکٹر احمد رضا لکھتے کہ مفتی عبدالواحد قادریؒ علم المیراث میں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو میراث کے بارے میں بہت بڑی دولت سے نوازا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مفتی اعظم سراج الفقہا نے آپ کو اپنی زندگی میں اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ مفتی عبدالواحد قادریؒ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ یہاںہم آپ کے چند مشاہیر تلامذہ کے اسماء تحریر کر رہے ہیں جنہوں نے فروغ اسلام اور علوم اسلامی کی ترویج واشاعت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں، آپ کے شاگردوں میں مفتی غلام مصطفی رضویؒ جامعہ انوارالعلوم ملتان، مفتی محمود احمد سعیدیؒ بانی جامعہ سراج الاسلام خان پور، مفتی محمد اقبال فیضیؒ جامعہ فیضیہ سکھر، علامہ پیر محمد اکرم فیضی شاہجمالیؒ، مفتی عبدالحمید اویسیؒ خانقاہ بہاولپور، سینئر صحافی سید ارشاد احمد عارف، علامہ سید خورشید شاہ گیلانیؒ، سید احسان احمد گیلانی، مولانا محمد امان اللہ دھریجہ، مفتی محمد مختار احمد درانی، شیخ الجامعہ سراج العلوم خان پور، علامہ سید ارشد سعید کاظمی شیخ الحدیث جامعہ انوارالعلوم ملتان، علامہ پیر محمد اعظم فیضی شاہجمالیؒ، سید محمد فاروق القادری ، صاحبزادہ علامہ حافظ احمد رضا سعیدی اور صاحبزادہ محمد سعید و دیگر ہزاروں کی تعداد میں شاگرد شامل ہیں۔ مفتی عبدالواحدؒ کا ذہنی میلان فقا اور علم میراث کی طرف تھا کہا جاتا ہے کہ یہ خشک موضوع ہے اور اس موضوع کے حامل علماء خشک اور کرخت مزاج ہوتے ہیں مگر ہم نے دیکھا کہ مولانا علم میراث کا پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ لطافت کے بھی بادشاہ تھے۔ مسکراتے رہنا سب کو مسکرا کر ملنا اور محفل کو خوبصورت لطائف سے زعفران بنانا اُن کا شیوہ تھا۔ اُن کی زبان میں بہت مٹھاس تھی، بہت کم بولتے تھے مگر جب بولتے تو اُن کے منہ سے پھول جھڑتے۔ سرائیکی میں نہایت شائستہ گفتگو کرتے زیادہ تر تدریس سرائیکی زبان میں ہوتی۔ مدرسہ سراج العلوم کے ساتھ ساتھ آپ خان پور کی قدیمی مسجد مائی صاحبہ کے تا حیات خطیب رہے۔ مسجد میں آپ کا خطاب دلنشیں ہوتا۔ خواجہ فرید ؒ کے اشعار سے مرصع آپ سرائیکی زبان میں اتنی سادہ اور عام فہم تقریب فرماتے کہ بات سب کی سمجھ میں آجاتی اور خطاب کے دوران ہر طرف سے سبحان اللہ سبحان اللہ کی آوازیں گونجتی۔ مفتی عبدالواحد کی پوری زندگی نمونہ ہے۔ آپ کے صاحبزادے حافظ احمد رضا بتاتے ہیں کہ میرے والد وسیب کی تہذیب و ثقافت کے مطابق سر پر عمامہ رکھتے تھے۔ سفید رنگ کا کرتا اور تہہ بند باندھتے۔ کبھی کبھی سر پر ٹوپی بھی رکھتے سادہ غذا کھاتے، مرغن غذائوں سے ہمیشہ پرہیز فرمایا۔ زندگی کے معاملات میں وہ اپنے گھر کے تمام افراد سے محبت کرتے ، اپنے ہمسائیوں سے پیار کرتے اور باوقت ضرورت اُن کے کام آتے، کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا ہر وقت میٹھے لہجے میں بات کرتے یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات پر سب لوگ نوحہ کناں تھے اور آج بھی لوگ آپ کو بہترین لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ بلا شبہ ایسے لوگ روز روز نہیں بلکہ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مفتی عبدالواحد قادری کو علوم اسلامیہ نافعہ ووافرہ عطا فرمائے۔ آپ عظیم مفسر و محدث، فقیہ، مفتی، منطقی، فلاسفر، ریاضی دان اور ماہر علوم فلکیات تھے۔ اطراف و اکناف سے متلاشیان علوم حاضر ہو کر علمی فیض سے فیضیاب ہوتے۔ سراج الفقہائؒ کے وصال کے بعد ان کے علمی جانشین مقرر ہوئے۔ سراج الفقہاء جو دستار زیب فرماتے تھے۔ آپ کی ذات ملانا برادری ہے جو کہ سیال کی شاخ ہے، آپ کی روحانی نسبت سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے ہے اور صلحاء کی زبان میں آپ صاحب ترتیب بزرگ تھے اور آپ کی آخری آرام گاہ مدرسہ سراج العلوم خان پور میں اسی جگہ بنائی گئی ہے جہاں آپ نے چالیس سال درس دیا۔ غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی نے آپ کو علم میراث کا سمندر قرار دیا۔ آپ کے کتب خانے میں زیادہ تر کتابیں علم میراث اور فقہ کے حوالے سے ہیں۔ آپ بہت بڑے عالم اور روحانی پیشواء تھے مگر اس کا اظہار کبھی نہ کیا۔