لندن(غلام حسین اعوان، مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم محمدنوازشریف نے کہا ہے کہ وعدہ کیاہے عوام کی حاکمیت کو بحال کرکے رہوں گا،مشن کے راستے میں جیل آتی ہے یا پھانسی اب قدم نہیں رکیں گے ، پاک فوج کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں،معلوم نہیں میں اپنی شریک حیات کو کب اور کہاں دیکھ سکوں گا،اب میں اسے اﷲ کے سپرد کرکے وطن واپس جارہا ہوں۔میری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اسے صحت عطا فرمائے ۔ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاہے کہ میں اپنی عوام اور ملک سے رشتے کی خاطر واپس جارہا ہوں۔میں جیل کی کوٹھری او ر لوہے کی سلاخوں کو سامنے دیکھ کر پاکستان جارہا ہوں۔جو مجھے ای سی ایل پر ڈال رہے ہیں وہ بھی سن لیں ،وہ بھی سن لیں جوکہہ رہے تھے کہ نوازشریف پاکستان نہیں آئے گا،وہ بھی سن لیں جو دعوے کررہے تھے کہ میں نے لندن میں سیاسی پناہ لے لی ہے ۔انشا اﷲ جمعہ کو وطن جارہا ہوں ، اس لئے کہ میرا وطن اس وقت مشکل میں ہے ۔ وعدے کا نام ہے ووٹ کو عزت دو۔اس مشن کے فیصلہ کن موڑ میں اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ اپنی بہادر اور دلیر قوم کا سر جھکنے نہیں دوں گا۔احتساب عدالت کا فیصلہ آپ سب نے سن لیا ہے ۔یہ ان فیصلوں کی تازہ قسط ہے جس کا آغاز ایک سال پہلے 28جولائی کو شروع ہوا۔میں نے یہ مقدمہ صرف اس لئے لڑا کہ مجھے انصاف کی توقع تھی۔میرے خلاف فیصلے میں لکھنا پڑا کہ میرے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔مجھے جیل میں ڈالنے کا فیصلہ کہیں اور ہوچکا تھا۔اس طرح فیصلے اور قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔کون ہیں جو عوام کی رائے کچل کر اپنا فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ پھانسی چڑھانا ہے تو چڑھا دو مگر میرے سوالوں کا جواب دے دو۔ اگر اقتدار عزیز ہوتا تو اس کا راستہ بڑا آسان تھا۔ ملک وقوم کو دائو پر لگا کر اقتدار میں رہنا قبول نہیں۔ پاک فوج کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ۔ میری بیٹی مریم بھی میرے ساتھ جیل جارہی ہے ۔عوام کل کو گھروں سے نکلیں اور ائیرپورٹ آئیں،۔25جولائی کو بھی نکلیں اور اپنی مہر شیر پر لگا کر ملک کی تقدیر بدلیں۔ جس قوم نے تین بار مجھے وزیر اعظم منتخب کیا اس کا قرض اتارنے آرہا ہوں۔ تبدیلی کا موقع ہمیں دو ہفتے بعد مل رہا ہے ۔ لاڈلے اور چہیتوں کو اور ترازو میں تولا جاتا ہے اور ہمیں اور ترازو میں۔ آئین اور قانون کے ساتھ کب تک مذاق ہوتا رہے گا۔اب زیادہ دیر چپ رہنا قوم سے زیادتی ہوگی۔ کون ہے جو انتخابات سے پہلے مرضی کا رزلٹ لینے کیلئے جتن کررہا ہے ۔کسی میں ہمت نہیں ہے کہ ججز کو قید کرنے والے ڈکٹیٹر کو واپس لاسکیں۔ انہوں نے ہماری پانچ سالہ محنت کے ثمرات خطرے میں ڈال دئیے ہیں۔ ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے اور روپے کی قدر کم ہورہی ہے ۔ خطرات کی نشاندہی کی تو اسے نیوز لیکس کا نام دیا گیا ۔اب یہ کھیل نہیں چلے گا، اب ملک وقوم کے ساتھ مزید زیادتی نہیں ہونے دینگے ۔ ریاست کے اوپر ایک اور ریاست ہے ۔ انگریزوں کی غلامی سے نکل کراپنوں کی غلامی میں آگئے ہیں۔