پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان مصباح الحق کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ جبکہ وقار یونس کو بائولنگ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ خوش قسمتی سے طویل عرصہ بعد قومی کرکٹ ٹیم کو پاکستانی ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ میسر آئے ہیں، ورنہ اس سے قبل غیر ملکی کھلاڑی ہی ہمارے کھلاڑیوں کی تربیت کرتے تھے۔ اکثر پاکستانی کھلاڑی روانی سے انگلش نہیں بول سکتے۔ لیکن جب آپ کے استاد کی زبان ہی انگلش ہو تو آپ کو خاک کچھ سمجھ آئے گا۔ اسی بنا پر پاکستانی کھلاڑی غیر ملکیوں سے وہ گُرنہیں سیکھ سکتے جس کے لئے کرکٹ بورڈ انہیں لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتا تھا۔ استاد اور شاگرد میں ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ زبان و بیان کا ایک ہونا بھی ضروری ہے۔ پاکستانی ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ مقرر ہونے سے نہ صرف ہمارے کھلاڑی ان کے ساتھ بہتر طور پر چل سکیں گے بلکہ وہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے لئے بھی تن من دھن کی بازی لگا دیں گے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، مصباح الحق اس سے بخوبی واقف ہیں۔ اب ان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح قومی کرکٹ ٹیم کا کھویا ہوا وقار بحال کرتے ہیں۔ مصباح الحق کی قیادت میں قومی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون ٹیم رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ موجودہ ٹیم میں اکثر کھلاڑی ان کی کپتانی میں کھیل چکے ہیں۔ اس لئے انہیں ازسرنو کام شروع کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ وہ کھلاڑیوں کی نفسیات کے مطابق انہیں ذمہ داری دے کر قومی ٹیم کو ایک بار پھر دنیا کی نمبر ون ٹیم بنا سکتے ہیں۔