اسلام آباد،لاہور(سٹاف رپورٹر، نمائندہ خصوصی سے ،این این آئی )وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجازاحمدشاہ کی صدارت میں اینٹی سمگلنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ سمیت سینئر افسران نے شرکت کی، یہ کمیٹی وزیر اعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے ،کمیٹی کا بنیادی مقصد سمگلنگ جیسے سنگین مسئلے سے نجات پانا ہے ۔اجلاس سے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہاکہ سمگلنگ جیسے سنگین مسئلے پر قابو پانے سے ملک کی معاشی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔وزیرداخلہ نے تمام کمیٹی ارکان کواپنا کام پوری لگن اور ذمہ داری سے سرانجام دینے کی ہدایت کی ۔اس میٹنگ میں تمام ارکان کو انکے متعلقہ ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔دریں اثنامذہبی رہنمائوں نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کومشکل وقت میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے ۔وزیرداخلہ اعجازاحمدشاہ کی زیر صدارت مذہبی رہنمائوں کا اجلاس ہوا۔ مذہبی رہنمائوں کے 35 رکنی وفد کی قیادت بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد کر رہے تھے -میٹنگ میں عیسائی، سکھ اور ہندو مذہب کے رکن بھی شامل تھے ۔وزیر داخلہ نے وفد کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت جن چیلنجز سے گزر رہا ہے اس میں ضرورت ہے کہ ہم وحدت اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے کام کرنے والے علماء مشائخ عظیم و کلیدی رول ادا کر سکتے ہیں۔اس دوران اس بات پرزوردیا گیا کہ پاکستان کی ترقی اور بقاء ہم سب کی اولین ترجیح ہے ۔ تمام رہنمائوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دس سال میں ہونے والے معاشی نقصان کا ازالہ چند دن میں نہیں ہو سکتا- انہوں نے مہنگائی کی اصل وجوہات اور اس وقت سے مقابلہ کرنے کیلئے عوام میں آگہی پھیلانے کا عزم کیا۔وزیر داخلہ سے ملاقات کرنیوالوں میں حافظ زبیر احمد ظہیر، مولانا محمد خان لغاری ، غلام سجاد نقوی، مولانا عبدالظاہر فاروقی ، مولانا مسعود قاسم قاسمی، سید چراغ الدین شاہ ،مفتی عبدالمعید لدھیانوی، آر بشب سبٹسین شاہ، بشب سرفراز پیٹر ، پروفیسر ظفر اﷲ جان، مفتی سیف اﷲ، سردار جنم سنگھ ، پنڈٹ لال چند ودیگر رہنما شامل تھے ۔