وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بزرگ شہریوں کی دادرسی کرتے ہوئے شناختی کارڈ، موبائل سم اور بنک اکائونٹ کے لئے فنگر پرنٹ کی شرط ایسے افراد کے لئے ختم کر دی ہے جن کے انگوٹھوں کے نشانات مٹ چکے ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ جسم میں کافی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن میں انگلیوں کی لکیروں کا مٹ جانا یا نشانات کا مدھم ہو جانا شامل ہے جبکہ شناختی کارڈ کے اجراء کے لئے نادرا ،موبائل سم ایشو کروانے اور بنک اکائونٹس کے لئے بائیو میٹرک کی تصدیق ضروری ہوتی ہے لیکن بزرگ شہریوں کو یہ مسئلہ درپیش تھا۔ نادرا حکام ان کی مجبوری کو دیکھتے تھے نہ ہی محکمہ داخلہ نے اس پر کوئی متبادل نظام بنا رکھا ہے ،جس کے باعث کئی بزرگوں کے شناختی کارڈ دوبارہ نہیں بن سکے جبکہ شناختی کارڈ نہ بننے سے وہ بنک میں اکائونٹس کھلوا سکتے ہیں نہ ہی جائیداد کی منتقلی سمیت اپنے بچوں کی دستاویزات بنوا سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ گھمبیر صورت اختیار کر چکا تھا جبکہ کسی بھی محکمے کا سربراہ اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔ بھلا ہو وزیراعظم عمران خان کا کہ انہوں نے اس پر نوٹس لے کر وزارت داخلہ کو 3 یوم کے اندر اندر تمام متاثرین کی دادرسی کرنے کی ہدایت کی ہے جو خوش آئند ہے۔ یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو جانا چاہئے تھا لیکن کسی بھی ذمہ دار شخص نے متاثرین کی فریاد وزیراعظم تک نہیں پہنچائی، تاہم وزیراعظم کو جیسے ہی اس کا علم ہوا انہوں نے فی الفور مسئلے کا حل نکالا ہے جو لائق تحسین ہے۔