اسلام آباد(خبر نگار) عدالت عظمیٰ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے قائم جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستیں نمٹا کر نئی جے آئی ٹی کوکام کرنے کی اجازت دینے کی استدعا مستردکردی ہے ۔3 رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے معاملے کا تین ماہ میں حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت کی اور قرار دیا کہ ہائیکورٹ نے عبوری حکم دیا ہے ، حتمی فیصلہ نہیں۔ عوامی تحریک اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ وہ بنچ کی تشکیل کے لئے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے سامنے رکھے اور بینچ 3مہینے کے اندر کیس کا حتمی فیصلہ کرے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں لوگ جاں بحق ہوئے اور زخمی بھی ، سانحہ کا فیصلہ ہر صورت ہونا چاہئے لیکن سپریم کورٹ کو اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے ۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں2ہفتے میں جج مقرر کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ احتساب عدالت کے جج کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے نئے جج کی تعیناتی کے لئے مشاورت ہونا چاہئے ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریما رکس دیئے کہ ریفرنسز کے جلد فیصلوں کے لئے فوری اقدامات ہونے چاہئیں، 8مہینے ہوگئے سپریم کورٹ نے اس معاملے کو اٹھایا لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا،نیب کے معاملے میں قانون میں ترمیم ہونی چاہئے لیکن ترمیم ترجیحات میں نہیں ۔وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے معاملے میں مشاورت کا عمل جمود کا شکار ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ اس لئے الجھا ہوا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کا تقرر چاہتے ہیں اور یہ اپنے لوگوں کا،بدنیتی نہ ہو تو معاملات سلجھ جاتے ہیں۔پراسکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ احتساب عدالتوں میں 1226ریفرنسز زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یکسوئی کے ساتھ سماعت کی جائے تو 6مہینے میں سب کا فیصلہ ہوجائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی بھی احتساب میں کوئی دلچسپی نہیں،تفتیشی افسر دلچسپی نہیں لیتا۔ دریں سپریم کورٹ نے گیس منصوبوں کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے گیس سرچارج سیس سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کو ورکرز ویلفیئر فنڈز کے پونے 200 ارب روپے واپس ویلفیئر فنڈز میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے ۔ علاوہ ازیں عدالت نے عدالتوں اور ٹربیونلز کے ملازمین کو جوڈیشل الائونس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو تمام درخواستیں 3 کیٹیگریز میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔عدالت عظمیٰ نے بلوچستان کے سرکاری افسروں کاکیس نمٹاتے ہوئے ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ صوبائی افسروں کے تحفظ کی درخواست کا جلد فیصلہ کرے ۔