پیپلزپارٹی سندھ کی رہنما نفیسہ شاہ نے ڈرامہ ارطغرل کے بارے میں بیان دیا کہ اسے پی ٹی وی سے نشر نہیں ہونا چاہیے، اس کے بجائے مقامی ہیروز پرڈرامے دکھانے چاہئیں۔ اس پرگزشتہ روز کالم لکھا کہ ہیروز مقامی یا غیر ملکی نہیں ہوتے ، ہیرو تو وہ ہوتے ہیں جو چپکے سے دل میں بسیرا کر لیں ، رنگ نسل قومیت کا تعصب اس میں آڑے نہیں آتا۔ اسی کالم میں عرض کیا کہ پاکستان جیسے سماج کابنیادی فیبرک مذہب اور نظریے سے بُناہے۔یہاں وہی ہیرو مقبول ہوں گے جن کا اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ سے رشتہ مضبوط ہو۔ اقبال نے یہی بات اپنے لافانی شعر میں کہی کہ جب کوئی مسلمان اپنے آقا سرکار مدینہ ﷺ سے دلی رشتہ جوڑے، آپ ﷺ کے ساتھ وفا کرے تو پھر سب کچھ اسی کا ہے۔جو اس نسبت کو لے کر چلے گا، وہ ہم پاکستانیوں کے دلوں میں گھر کر لے گا۔ ارطغرل ہو یا آج کے زمانے کا کوئی ایسا دبنگ کردار،اسے پزیرائی ملے گی۔ میرے گزشتہ کالم پر معمول سے خاصا زیادہ ردعمل آیا، ای میلز، واٹس ایپ میسجز اور فیس بک پر بے تہاشا کمنٹس۔جب بھی مذہب ، نظریے یا ایمان کا نام لیا جائے ، تب ہماری لبرل، سیکولر لابی تلملا اٹھتی ہے۔ انہیں اصل دکھ ہی یہی ہے کہ پاکستانی سماج آخر سیکولر کیوں نہیں ہوجاتا اور ہر کچھ عرصہ کے بعد اس میں ایمان کی چنگاری کس طرح سلگنے لگتی ہے۔کالم پربعض سوالات اور اعتراضات سامنے آئے، ان پر تبصرہ کرنا ضروری ہے، مگر پہلے بی بی نفیسہ شاہ کے حوالے سے اپنا تاسف شیئر کرتا ہوں۔ نفیسہ شاہ کے روایتی بیانات دیکھ کر دلی دکھ ہوتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوے کے عشرے کے اوائل میں اس بی بی نے انگریزی جرنلزم کو چونکا دیا تھا۔ 1990,91 میں کراچی کے انگریزی ماہانہ نیوزلائن میںکاروکاری کے موضوع پر نفیسہ شاہ کی سپیشل رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ نیوز لائن میگزین رضیہ بھٹی نے شروع کیا تھا اور اپنی بے باک صحافت ، تحقیقی رپورٹنگ کی وجہ سے جلد مشہور ہوگیا ۔نیوز لائن شروع ہونے کی وجہ بھی دلچسپ تھی۔ رضیہ بھٹی ہیرالڈ کی ایڈیٹر تھیں، 88ء میں جنرل ضیا کی نگران حکومت میں محمود ہارون وزیر بنے۔ ہیرالڈ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کا انٹرویو کیا ، مگر حکومتی دبائو پر وہ رکوا دیا گیا۔ ایڈیٹررضیہ بھٹی نے انٹرویو شائع کرنے پر سٹینڈ لیا، بات نہ مانی گئی تواپنی ٹیم کے بیشتر ارکان سمیت استعفا دے دیا ۔ یہ الگ ستم ظریفی تھی کہ اگلے ماہ خود جنرل صاحب ہی دنیا میں نہ رہے۔ بہرحال ایک سال بعد اگست 89ء میں ماہانہ نیوز لائن شروع کیا گیا، اس کے کئی صحافیوں نے اپنی سپیشل رپورٹس سے نام کمایا۔ حسن مجتبیٰ، محمد حنیف وغیرہ نیوز لائن ہی سے مشہور ہوئے۔محمد حنیف کی اہلیہ نمرا بچہ جواینکرثنابچہ کی بہن ہیں، وہ بھی نیوزلائن میں آرٹ اینڈ کلچر پر لکھتی تھیں۔۔ نفیسہ شاہ کی اندرون سندھ کے حوالے سے سپیشل رپورٹس شائع ہوتی تھیں، پتہ چلا کہ قائم علی شاہ کی صاحبزادی ہیں۔اس وقت بطور قاری ہمیں لگتا تھا کہ ایک معروف سندھی گھرانے سے ایک لڑکی صحافت میں آئی ہے جو بہت آگے جائے گی۔ افسوس کہ نفیسہ شاہ نے سیاست کی راہ منتخب کی تو اس میں وہی روایتی، گھسی پٹی سیاسی اطوار ہی اپنائے، جن کے خلاف وہ ایک زمانے میں لکھتی رہیں۔ نمک کی کان میں جا کر نمک ہوجانا شائد اسے ہی کہتے ہیں۔ میرے گزشتہ کالم پرتنقیدی تبصروں میں ایک بات تواتر سے کہی گئی،’’ کیا جو کردار مسلمان نہیں وہ پاکستانی ہیرو نہیں ہوسکتے؟ ‘‘ظاہر ہے ایسی بات نہیں۔ پاکستان کے لئے کئی غیر مسلم شخصیات نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، انہیں اس پر سول وملٹری ایوارڈز بھی دئیے گئے ، عوامی سطح پر بھی انہیں پزیرائی ملی۔ سیسل چودھری سمیت کئی نام گنوائے جا سکتے ہیں۔ مختلف اخبارات کے لئے سیسل چودھری کے کئی انٹرویوز میں نے رنگین ایڈیشنز میں شائع کئے۔ انہیں ہمیشہ محبت اور احترام کے ساتھ دیکھا گیا۔ اس کے باوجود یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ میں اپنے بچوں کے لئے کسی فوجی ہیرو کو رول ماڈل بنانا چاہوں توترجیح عزیز بھٹی شہید، کیپٹن کرنل شیر خان اور ایم ایم عالم جیسے کردار ہوں گے۔یہ ذاتی چوائس کا معاملہ ہے۔ کسی پر جبر نہیں۔جو جسے چاہے اپنا ہیرو بنا لے۔ جسٹس اے آر کارنیلئس ، جسٹس دراب پٹیل اور دیگر غیر مسلم زعما بھی قابل تعریف ہیں۔یہ سب نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ رہے۔ان کی ایک خاص حیثیت ہے، جس سے کوئی انکاری نہیں۔ ایک اعتراض یہ ہوا :’’ارطغرل کا کردار توتاریخی ہے، مگر اس کے بارے میں زیادہ معلومات موجود نہیں، اس ڈرامہ میں فکشن زیادہ ہے، لوگ مگر اسے اصل سمجھ رہے ہیں۔‘‘ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اچانک ہی ہمارے تمام لبرلز، سیکولرز کو یہ پریشانی لاحق ہوگئی؟وہ کیوں اتنے مضطرب ہیں۔ ارطغرل کی کامیابی انہیں ہضم ہی نہیں ہو پارہی۔ہمارے لوگ طویل عرصہ سے مختلف چینلز پر ڈرامے ہی دیکھتے آئے ہیں، آج کل تو نیٹ فلیکس اور ٹورنٹ وغیرہ کی وجہ سے انہیں بہت سے غیر ملکی سیزن دیکھنے کا موقعہ بھی ملا۔ گیمزآف تھرون ، وائی کنگز، لاسٹ کنگڈم جیسے تاریخی پس منظر والے ڈرامے پاکستان میں بھی مقبول ہوئے۔ اس لئے پاکستانی شائقین کی عقل ودانش پر بھروسہ کریں ۔ وہ ارطغرل کو ڈرامہ ہی سمجھ کر دیکھ رہے ہیں، ایسا ڈرامہ جس سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔ ارطغرل کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مشکل اور کٹھن ترین مراحل میں بھی حوصلہ نہیں ہارنا، اللہ پر توکل کرنا ہے، مشکل وقت گزر جائے گا۔ یہ وہ چیز ہے جو کورونا وبا کے حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ارطغرل ڈرامہ میں بار بار سلطنت یعنی ریاست کے خلاف جانے سے تنبیہہ کی جاتی ہے کہ کہیں مسلمان آپس میں نہ لڑ پڑیں اور اتحاد پارہ پارہ نہ ہوجائے۔ پاکستان کے پس منظر میں یہ بہت اہم سبق ہے۔ ہمارے کئی معروف ترقی پسند لوگ اپنی فیس بک وال سے ارطغرل ڈرامہ کے اداکاروں اور خواتین اداکارئوں کی نجی تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ارطغرل کی بیوی کا کردار ادا کرنے والی حلیمہ سلطان سے متاثر نہ ہوجانا۔ڈرامے میں وہ پاکیزہ بی بی بنی ہے، مگر اپنی ذاتی زندگی میں بڑے بولڈ ڈریس پہنتی ہے، ارطغرل کا رول نبھانے والا التان بھی اپنی ماڈرن ڈریس میں ملبوس بیوی کے ساتھ تصاویر انسٹا گرام پر لگا تا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ نہایت بچکانہ حرکتیں ہیں، لبرل دوستوں کی فرسٹریشن کو ظاہر کر رہی ہیں۔ کوئی احمق ہی اداکارہ کو اصل حلیمہ سلطان سمجھے گا۔اسی طرح اداکار التان ارطغرل تو نہیں۔اپنی پرسنل زندگی میں وہ جو چاہے کریں، اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ کردار اتنی عمدگی سے نبھائے کہ اصل کا گماں گزرا۔ایک آدھ لبرل ویب سائٹ نے باقاعدہ کمپین چلانے کی کوشش کی کہ دیکھیں لوگ مضطرب ہو کر ان ترک اداکاروں کو مطعون کر رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ لوگوں سے زیادہ ویب سائٹ والے ایسا چاہتے ہیں تاکہ پھر اہل مذہب پر تنقید کا ایک اور بہانہ ہاتھ آئے گا۔لبرل کیمپ اس قدر چکرا جائے گا، اس کا اندازہ نہیں تھا۔ ایک اعتراض یہ آیا:’’ صرف جنگجو کیوں ہیروبنائے جاتے ہیں؟‘‘جواب ہر کوئی جانتا ہے کہ وارز اور وار ہیروز پر دنیا بھر میں فلمیں بنتی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئے پون صدی ہوگئی،پہلی جنگ عظیم اس سے بھی دو عشرے پہلے کی ہے، مگران پر مسلسل فلمیں بن رہی ہیں،دو سال پہلے ڈنکرک فلم کو آسکر ایوارڈ ملا، ابھی اسی سال ایک فلم نے کسی کیٹیگری میں ایوارڈ جیتا۔کبھی سپرہیروز فلموں کا بھی جائزہ لیں۔ ایونجر سیریز کی فلمیں کتنی زیادہ ہیں، ان میں کیا ہتھیار استعمال نہیں ہوتے؟ یہ تو فطری رجحان ہے یارو۔ ویسے ہم تو اس کے حق میں ہیں کہ قائداعظم اور علامہ اقبال جیسے ہمارے عظیم محسنین پر ڈرامہ سیریلز بننے چاہئیں جن میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے آئیں۔مقامی ہیروز پر بھی ڈرامے بننے چاہئیں۔صوفی شعراجیسے خواجہ غلام فرید، سچل سرمست، شاہ لطیف ، خوش حال خان خٹک ، رحمان بابا وغیرہ پر ڈرامہ سیریلز بننے چاہئیں، کس کو اعتراض ہوسکتا ہے؟حضرت باہو پر بنے سکرپٹ کا تصور ہی مسحور کر دیتا ہے۔ اپنے بیٹوں سمیت پیرانہ سالی میں سکھوںسے لڑتے ہوئے شہید ہوجانے والے ملتان کے آخری مسلمان حکمران نواب مظفر خان پر ڈرامہ بننا چاہیے۔ نواب مظفر شہید کی شخصیت ٹیپو سلطان سے مشابہہ ہے، افسوس کہ تاریخ نے انہیں نظرانداز کیا۔احمد خان کھرل پر بھی ڈرامہ بن سکتا ہے ۔ویسے بننے کو تو بھگت سنگھ پر بھی بن سکتا ہے۔ یہ بات مگر ہمارے لبرلز کو سمجھنا ہوگی کہ بھگت سنگھ پاکستان کا ہیرو نہیں۔وہ ایک بالکل ہی الگ دور، نظریے اور سوچ کا اسیر تھا۔ پاکستان کے نظریہ ، اسلامی نظام اور الگ ملک بنانے کے تصور سے بھگت سنگھ کا کیا لینا دینا؟ وہ اگر تحریک پاکستان کے دنوں میں ہوتا تو قوی امکان تھا کہ کانگریس کا ہم نوا ہوتا۔ انفرادی طور پر ہم بھگت سنگھ کی مزاحمت، دلیری کو سراہ سکتے ہیں، وہ پاکستانی ریاست یا قوم کا ہیرو نہیں ۔ رنجیت سنگھ بھی کبھی پاکستانی ہیرو نہیں بن سکتا۔سکھوں نے ملتان پر جس طرح ظلم ڈھائے، لاہور میں بادشاہی مسجد کی بے حرمتی کی اور پنجاب کے مسلمانوں کو غلامانہ حیثیت دی ، وہ کیسے بھلائی جا سکتی ہے؟ پاکستان اور پاکستانیوں کا ہیرو اسلام اور نظریہ پاکستان کے ساتھ وابستگی سے مشروط ہے۔