اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کی تازہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ 2016ء میں حریت پسند کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کی چھان بین کی جائے۔ یاد رہے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد پانچ ماہ کے دوران ایک سو کشمیری مظاہرین کو قتل کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والے ایک ادارے جموں و کشمیر سول سوسائٹی اتحاد کے پیش کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک برس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 586افراد مارے گئے۔ ان میں 160عام شہری اور 267حریت پسند تھے جو بھارت کے سکیورٹی اداروں کا نشانہ بنے جبکہ حریت پسندوں نے 159سکیورٹی اہلکار ہلاک کیے۔ اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق کی جاری کی گئی رپورٹ میں گزشتہ فروری میں پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات بڑھنے کا بتایا گیا ہے۔ اس طرح کے واقعات کے بعد شہریوں کا حق زندگی متاثر ہوا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارتی انتظامیہ مظاہرین، سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو قابو کرنے کے لیے حراست سمیت کئی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں متنازع آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس ایکٹ کو عالمی ادارے نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ حقیقت عیاں کی گئی ہے کہ عام شہریوں پر تشدد یا ہلاکتوں پر مرکزی حکومت نے کسی سویلین عدالت میں آج تک کسی ایک اہلکار کے خلاف بھی مقدمہ نہیں چلایا۔ کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد کو دہشت گرد کہہ کر قتل کیا جا رہا ہے مگر ایسی اموات کی کبھی حقیقت معلوم کرنے کا تکلف نہیں کیا گیا۔ انسانی حقوق کمشن کی طرف سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھارتی مؤقف کو جھوٹ ثابت کر رہا ہے۔ گزشتہ برس جون میں بھی اقوام متحدہ نے اسی نوع کی ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی اور مقامی آبادی پر سکیورٹی اداروں کے مظالم کے متعلق یہ پہلی رپورٹ تھی۔اس رپورٹ کو بھی اسی طرح مسترد کیا گیا جس طرح حالیہ رپورٹ کو مسترد کیا گیا ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو دہشت گردی کو قانونی جواز دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ رپورٹ پر بھارت کا ردعمل انسانی حقوق مخالف اور بچگانہ ہے۔ کشمیر دنیا کا وہ بدنصیب خطہ ہے جہاں کے مقامی باشندوں کو بہتر برس سے ان کے انسانی اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ کئی برس سے مقامی آبادی ان مظالم سے آگاہ کر رہی ہے جو بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں توڑ رہی ہے۔ راہ چلتے نوجوانوں کو حریت پسند قرار دے کر پکڑ لیا جاتا ہے، کشمیریوں کے باغات، فصلوں اور گھروں کو آتش گیر مادہ پھینک کر خاکستر کیا جاتا ہے، بعض ذرائع محدود صلاحیت کے ایٹمی مواد کو استعمال کیے جانے کی بات کر رہے ہیں۔ پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال درجنوں شہریوں کو نابینا بنا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس ہتھیار کی تباہ کاریوں کا ذکر موجود ہے۔ خواتین کی عصمت دری، بچوں کا قتل اور کشمیر کے تنازع کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کی بات کرنے والے رہنمائوں کو گرفتار کر کے بھارت نے صورت حال مزید تشویشناک بنا دی ہے۔ پاکستان اور اہل کشمیر ایک ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔پاکستان کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ تنازع کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔ اس تنازع کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ آئے روز لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی خطے کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ بھارتی افواج سات دہائیوں میں اہل کشمیر کو آزادی کے مطالبے سے باز نہیں رکھ سکیں۔ مقبوضہ کشمیر کے باشندے پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ ان کے لیے بھارت کا تسلط غیر قانونی ہے۔ اسی لیے حریت پسندوں کی لاشیں پاکستانی پرچم میں دفنائی جاتی ہیں اور بھارتی فوج کی بندوقوں کے سامنے کشمیری باشندے بلا خوف پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے قیام کا اہم مقصد دنیا کو جنگوں سے بچانا اور بین الاقوامی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ یقینا دنیا کے کچھ علاقوں میں اقوام متحدہ نے مسلح تنازعات کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن کشمیر اور فلسطین، دو ایسے تنازعات ہیں جہاں اقوام متحدہ مصلحتوں کا شکار اور بے بس دکھائی دیتی ہے۔ کشمیر صرف پاکستان اور بھارت کا معاملہ نہیں اس کی وجہ سے خطے کی 2 ارب آبادی کی سلامتی خطرے میں ہے۔ ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں یہ انسانی تہذیب کا مہذب ترین دور کہلاتا ہے۔ جنگیں اس وقت کی یادگار ہیں جب طاقتور ظلم کرنے میں آزاد ہوتا تھا اور کوئی اسے قانون، انسانی حقوق اور دوسروں کی آزادی کے احترام کا درس نہیں دے سکتا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کا توازن اقوام متحدہ کے ہاتھ میں دیا گیا مگر یہ ادارہ بڑی طاقتوں کے مفادات کا اسیر ہو گیا۔ ایسا نہ ہوتا تو اس کی گزشتہ برس کی رپورٹ پر اب تک تحقیقات ہو چکی ہوتیں۔ پاکستان اور کشمیری جماعتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حالیہ رپورٹ کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیر کا مقدمہ زیادہ بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔