سرینگر(نیوز ایجنسیاں ) مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں نے کرفیو، تازہ دم بھارتی فوج کی تعیناتی اور جگہ جگہ خاردار تاریں لگانے کے باوجود محرم کے جلوس نکالے ۔لوگوں نے کرفیو اور پابندیوں کوتوڑتے ہوئے سرینگر کے علاقے آبی گذر سے جلوس نکالا جس پرپولیس نے تمام عزاداروں کو حراست میں لے لیا۔ اے ایف پی کے مطابق کم از کم دو جلوسوں کے شرکاء کو پولیس نے حراست میں لیا اورعزاداروں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ۔نیوز ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے کہا محرم کے چھ اور جلوس بھی نکالے گئے جن میں شامل عزاداروں کو پولیس نے حراست لے لیا۔سرینگر میں پولیس اہلکار گشت کررہے ہیں اور لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیاجارہا ہے ۔ پولیس نے عزاداروں کے خلاف لاٹھیوں اورپیلٹ گنز کا بھی بے دریغ استعمال کیا ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی افواج نے مظلوم، بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کو نویں محرم الحرام اور تعزیوں کے جلوس نکالنے اور مجالس عزا منعقد کرنے سے روکنے کیلئے پوری وادی میں مزید خاردار تاریں بچھادیں اورمزید تازہ دم فوجی دستے تعینات کردیئے گئے ہیں جبکہ کرفیو زدہ علاقوں میں مزید سختی کردی گئی ہے ۔ وادی میں مسلسل کرفیو کو 36 روز ہوگئے ۔ عزاداران حسینؓ محرم الحرام کے جلوس نکالنے اور مجالس عزا کے انعقاد کی کوشش کررہے ہیں جس کی وجہ سے بعض مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک اوردیگر ملحقہ علاقوں کے داخلی اور خارجی راستے اوراہم شاہراہوں ایم اے روڈ اور ریزیڈنسی روڈ کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے خار دار تاریں بچھا کر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا ہے ، اتنی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کرفیو پاسز رکھنے والے افراد کو بھی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔سڑکیں بند ہونے کے باعث ایمبسولینسوں کو بھی آگے جانے نہیں دیا جارہا ہے ۔سرینگر کے علاقے صورہ کے رہائشی محمد اقبال نے میڈیا کو بتایا لوگوں کو اتنی مشکلات کاتو انہیں گزشتہ ماہ کے دوران بھی سامنا نہیں تھا۔ لا ل چوک سرینگر میں لگائے جانیوالے ہفتہ وار بازار کوبھی عاشورہ محرم کے جلوسوں پرپابندی کی وجہ سے لگانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔وادی میں مسلسل36ویں دن بھی معمولات زندگی بری طرح متاثر رہے اور تمام بازار بند اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل رہی ۔ 5اگست کے بعد سے انٹرنیٹ ، موبائل فون اورٹیلی فون سروس مسلسل معطل اور کیبل ٹی وی چینلز بند ہیں جس کے باعث وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے ۔ کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کی خوراک اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اورہسپتالوں میں ادویات ختم ہو چکی ہیں۔پابندیوں کی وجہ سے مقامی صحافی کام نہیں کرپارہے اوروہ زمینی حقائق کو دنیا تک پہنچانے سے معذور ہیں۔دریں اثنا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی کہ سرینگر میں شہید ہونیوالا کشمیری لڑکا اسرار احمد بھارتی فوجیوں کی پیلٹ گنز فائرنگ میں شہید ہوا ۔