بھارتی فورسز نے کشمیر میں درندگی کی ایک اور داستان رقم کر دی۔ سوپور میں تین سالہ بچے کے سامنے اس کے نانا کو بے دردی سے شہید کر دیا۔ نام نہاد آپریشن کے دوران گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے خوفزدہ ننھا عیاد نانا کے سینے پر بیٹھ گیا جو اسے بچانے کے لئے اب اس دنیا میں نہیں تھے۔ تین سالہ معصوم بچے کی تصویر نے ہر ذی روح کو بے چین کر دیا ہے، بچے کی آنکھوں میں اترتے آنسو جگر کو پارہ پارہ کرتے ہیں ،جس کسی نے بھی یہ تصویر دیکھی ،بھارتی درند گی پر دل تھام کر رہ گیا،جو حد درجہ تکلیف دہ ہے۔ چہرے پر آنسوئوں کا سیلاب‘ ہاتھوں میں خون آلودہ بسکٹ ‘ کپڑوں پر خون کے دھبے، کانپتا ہوا ننھا جسم۔ بربریت کی آخری حد، یہ تصویر چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ کشمیر میں زندگی ختم ہو چکی ہے‘کشمیری بچے اپنے معصوم بھائی کی تصویر پر ماتم کناں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی باری کے منتظر ہیں۔ موت کا غم بڑا کربناک ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ساتھ تسلی اور صبر کا سامان لے کر آتا ہے۔ زخم ہولے ہولے بھر جاتا ہے۔ چاہنے والوں کو علم ہوتا ہے کہ جانے والا دور چلا گیا۔ اب اسے لوٹ کر نہیں آنا لیکن جن کے عزیز آنکھوں کے سامنے قتل کر دئیے جائیں ۔ باپ جواں سالہ بچے کے سامنے ذبح کر دیا جائے یا پھر بچوں کو والدین کے سامنے گولی مار دی جائے۔ وہ کرب‘ دکھ اور اذیت صرف اہل خانہ ہی جان سکتے ہیں۔ مانا کہ خون میں لت پت لاشے پر بیٹھے تین سالہ نواسے کی تصویر نے پوری دنیا کو رلا دیا ہے‘ اگر نہیں روئی تو صرف اقوام متحدہ‘ اس تصویر کو دیکھ کر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا اقوام متحدہ نام کا کوئی ادارہ اپنے فرائض منصبی پورے کر رہا ہے۔ کیا سلامتی کونسل کشمیریوں کے قتل عام کو روکنے کے لئے کبھی متحرک ہو گی۔ آخر انسانی حقوق کے تحفظ کے دعویدار یہ ادارے کس مرض کی دوا ہیں؟اگر یہ ادارے بے بس ہو چکے ہیں تو اس کا اعلان کر دیں تاکہ محکوم‘ کمزور اور نحیف طبقات آزاد سانس لینے کی آرزو چھوڑ کر غلامی کا طوق گلے میں سجا لیں۔5اگست 2019ء سے بھارت نے کشمیریوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے۔جو وقت کے ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہے۔ مودی سرکار نے پہلے کشمیریوں کو کرفیو لگا کر گھروں میں قید کیا پھر ان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے بھارتی شہریوں کو وہاں کا ڈومیسائل جاری کیا۔اب ان کی جائیدادوں پر قبضے شروع کر دیے گئے ہیں۔ اس سارے کھیل میں عالمی برادری خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ عالمی تنظیموں اور اداروں کو بھارتی بربریت کا نوٹس لیناچاہیے۔ امریکہ‘ روس ‘ فرانس ‘ برطانیہ اور جرمنی سمیت یورپی ممالک کو کشمیریوں کی آواز سن کر حق خود ارادیت دلانا چاہیے تھا لیکن ان کی خاموشی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ مظلوم کی بجائے ظالم کی طرف داری کر رہے ہیں۔ لداخ میں چینی افواج نے بھارتی فوجیوں کی جس طرح درگت بنائی اس خفت کو مٹانے کے لئے مودی سرکار نہتے کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ کنٹرول لائن پر بھی بھارتی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوچکا ہے گزشتہ روز بھارتی افواج نے لیپہ سیکٹر میں شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس میں آرٹلری مارٹرز اور دیگر بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ پاک فوج نے دشمن افواج کو بروقت منہ توڑ جواب دیتے ہوئے جوابی کارروائی میں چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے لداخ میں چین کے ہاتھوں پسپائی کے بعد بھارت کی پاکستان کے ساتھ لڑائی کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے ۔لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمندگی پر مودی سرکار کو اپوزیشن اور عوام کی جانب سے کئی قسم کے سخت سوالات کا سامنا ہے۔ لہٰذا مودی اس خفت کو مٹا کر عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ لڑائی چھیڑ سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات تنائو کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک نے سفارتی عملے میں پچاس فیصد کمی کر دی ہے۔ عالمی میڈیا دونوں ممالک کے مابین حالات کی کشیدگی کی باتیں کئی مرتبہ کر چکا ہے لیکن عالمی امن کے ٹھیکیدار اس پر ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ خدانخواستہ اگر عالمی برادری نے ایسے ہی چپ سادھے رکھی تو پھر خطے کے حالات کو پرتشدد ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ تین مرتبہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لئے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ کیونکہ اس خطے کا امن کشمیریوں کی آزادی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ امریکہ اگر افغانستان سے مکمل انخلا کر لیتا ہے۔ تو اسے پھر بھی خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لئے کشمیر کا مسئلہ حل کرانا ہو گا۔جبکہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پہلے ہی بھارت نے تسلیم کر رکھا ہے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے گا۔ اقوام متحدہ ،سلامتی کونسل اور عالمی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت پر زور ڈال کر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلائے تاکہ خطے کے حالات معمول پر آسکیں ۔ اگر عالمی برادری نے اب بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو پھر اس خطے میں حالات کو معمول پر رکھنا نہ صرف مشکل ہو گا بلکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرے کو بھی خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔ اس لئے عالمی طاقتیں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلا کر بھارت کو ان کی نسل کشی سے روکیں۔بچے کی تصویر اقوام عالم سے انصاف مانگتی ہے ،ہے کوئی جو اس معصوم کو انصاف دلائے ؟