اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر؍ نیوز ایجنسیاں؍ مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مشتمل ڈوزیئر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معروف کشمیری حریت رہنما کے انتقال کے بعد نئی دہلی انتظامیہ اور اس کی فوج کی انتہائی منفی سوچ مزید واضح ہوگئی،کفن و دفن سے متعلق امور میں بھی تعصب کا مظاہرہ کیا گیا جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک کا چہرہ بے نقاب کریں گے ۔وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا عالمی برادری کو باور کرانا ہوگا کہ بھارتی حکومت کہتی کیا ہیں اور کرتی کیا ہے ، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم رپورٹ نہیں ہورہے ، حقائق منظر عام پر نہیں آرہے ۔شاہ محمود قریشی نے ایک ڈوزیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق ڈوزیئر 131 صفحات پر مشتمل ہے ۔انہوں نے کہا کتابچے کی صورت میں موجود ڈوزیئر کا پہلا حصہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم، مقبوضہ وادی میں متحرک تحریک اور تیسرے حصے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا تفصیل سے تذکرہ ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا تیار کردہ ڈوزیئر محض قیاس پر مبنی نہیں بلکہ اس میں بھارتی مظالم کے 113 حوالہ جات ہیں، ان حوالہ جات میں پاکستان کے ریفرنس انتہائی محدود ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 26 حوالہ جات انٹرنیشنل میڈیا، 41 بھارتی اور 32 حوالہ جات بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کے 3 ہزار 432 کیسز کا تذکرہ ہے ، جنگی جرائم میں ایک میجر جنرل، 5 بریگیڈیئرز، 4 آئی جیز، 7 ڈی آئی جیز، 131 کرنلز، 186 میجرز اور کیپٹنز ہیں اور 118 یونٹس کا بھی تذکرہ کیا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث رہی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارتی مظالم کی وجہ سے ایک لاکھ بچے یتیم ہوئے ، ایک لاکھ املاک کو دانستہ طور پر نقصان پہنچایا گیا، اسلحہ رکھ کر مظلوم کشمیریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے کہ تحریک کو نقصان پہنچے ۔علاوہ ازیں پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں قتل نوجوانوں سے متعلق بھارتی افسران کی آڈیو بھی سنائی گئی۔ڈوزیئر میں شامل معلومات شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 گاؤں میں 8 ہزار 652 اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں جس میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں تھیں۔ بھارتی فوج نے 2017 سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیار استعمال کئے جس سے 37 کشمیری جاں بحق ہوئے جبکہ 2014 سے اب تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں 3 ہزار 850 عصمت دری کے واقعات پیش آئے ، 650 خواتین کو قتل کردیا گیا۔ڈوزیئر میں دی گارجین کا حوالہ دیا گیا کہ 10 ہزار کشمیریوں کو جبری لاپتا کردیا گیا، بھارتی فورسز نے 2014 کے بعد سے اب تک 120 کشمیری بچوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اقوام متحدہ سے متعلق سوال اٹھایا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق کی جانے والی خلاف ورزیوں پر عالمی ادارہ نئی دہلی پر پابندیاں نافذ کیوں نہیں کرتا؟انہوں نے مزید کہا یہ امر قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہیں۔شیریں مزاری نے کہا برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے بعد انسانی حقوق سے متعلق سخت قوانین تشکیل دیئے لیکن شاید مالی فوائد کے پیش نظر بھارت پر دباؤ نہیں ڈال رہا۔انہوں نے یورپی یونین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا آپ انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں لیکن بھارتی تسلط پر آپ کا کوئی مؤثر مؤقف سامنے آتا اور نہ نئی دہلی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے ۔شیریں مزاری نے کہا اب بھارت کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی صدارت دے دی گئی، ایسا نہیں ہوگا کہ یورپی ممالک اپنی مرضی اور ایما پر کسی بھی ملک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر پابندی لگائے جبکہ بھارت کو ہر قسم کی پابندی سے آزاد رکھے ۔قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بھارت کے حوالے سے کہا کہ کچھ عرصے قبل تک دنیا ہماری بات پر یقین نہیں کرتی تھی لیکن اب تمام دروازے کھلے ہیں کیونکہ جو کچھ بھارت میں ہورہا ہے ، وہ بہت ظالمانہ ہے ۔انہوں نے کہا بھارت کے ساتھ عالمی برادری کے مالی فوائد کے مفاد کو توڑنا ہوگا۔ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے 5 کیمپ چلا رہا ۔ترجمان نے کہا مقبوضہ کشمیر میں 8 ہزار 226 اجتماعی قبریں دریافت کی گئی ہیں، یہ وہ قبریں ہیں جو بھارتی افواج نے بیگناہ کشمیریوں کو قتل کرکے بنائی ہیں، ان تمام افراد کو بے دردی سے مارا گیا، بھارتی افواج نے 239 ٹارچر سیل قائم کر رکھے ، 2014 کے بعد 30 ہزار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مقبوضہ کشمیر میں 231 افراد کو کرنٹ لگایا گیا، بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیار استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا بھارتی فوج نے 3 ہزار 800 سے زائد خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ برطانوی اخبار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 8 سے 10 ہزار افراد لاپتہ ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں 2014 سے پیلٹ گنز استعمال کی گئیں، پیلٹ گنز سے 15 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔عاصم افتخار نے بتایا کہ بھارت کے 6 ایسے ڈریکونین قوانین ہیں جو کسی بھی شخص کو دہشتگرد قرار دے سکتے ہیں جبکہ بھارت داعش کے 5 تربیتی کیمپ چلا رہا ہے ، بھارت کی طرف سے داعش کے تربیتی کیمپ چلانا تشویش کا باعث ہے ۔