سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے نافذ کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کے باعث ہزاروں نوجوان بے روزگار ہو گئے ۔ مسلسل مواصلاتی بلیک آئوٹ کی وجہ سے صرف آئی ٹی انڈسٹری میں1500نوجوان اپنی ملازمتوں سے محروم ہو ئے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حکام کاکہنا ہے کشمیر میں مختلف آئی ٹی کمپنیوں سے وابستہ زیلی کمپنیوں کو شدید نقصان کا سامنا کرناپڑا ہے کیونکہ مواصلاتی بلیک آئوٹ کی وجہ سے غیر ملکی صارفین وادی کشمیر سے باہر کام کرنے والی دیگرکمپنیوں کو منتقل ہو گئے ۔ سرینگر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک معرو ف کمپنی کی طرف سے اپنے عملے کے اراکین کیلئے جاری کئے گئے نوٹس میں کہاگیا ہے کہ وہ آفس آنے کیلئے اپنی جانوں کو خطرے میں مت ڈالیں اور بعض ملازمین کو نئی دہلی منتقل کرنے سے متعلق فیصلے کے بارے میں خود ان سے رابطہ کیاجائیگا۔ایک معروف آئی ٹی کمپنی کے سینئر عہدے دار نے بتایا کہ Rengrethانڈسٹریل پارک جس میں آئی ٹی کی معروف کمپنیاں قائم ہیں اور وہ امریکہ ، برطانیہ ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی افریقہ میں صارفین کو سروسز فراہم کرتی ہیں میں کام کرنے والے تقریبا 1500کشمیری نوجوان بے روز گار ہو گئے ہیں۔ Aegis،Lelafe، STCاورIQuasarجیسی معروف کمپنیاں جو کروڑوں روپے کا بزنس کرتی تھیں کشمیر سے واپس نئی دہلی چلی گئیں ۔