سری نگر(کے پی آئی) بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈائون تیز کردیا۔قابض فورسزنے 72گھنٹوں کے دوران جماعت اسلامی کے کارکنوں کی بڑی تعداد سمیت 900 شہری گرفتار کرلئے ،سرینگر، شوپیاں ، بڈگام ، گاندر بل ، پلوامہ ، اسلام آباد، کولگام ، بارہمولہ اور دیگر علاقوں میں کریک ڈائون کے دوران چھاپوں محاصروں کا سلسلہ جاری ہے ،مقبوضہ کشمیر کے چار اضلاع میں 16 مقامات پر این آئی اے نے چھاپے مارے نصف درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا،پرنسپل اور ٹیچر کے قتل کیس میں 40اساتذہ کو بھی طلب کرلیا گیا ، سنٹرل جیل سرینگر سے 25 کشمیری قیدیوں کو مقبوضہ پونچھ جیل منتقل کیا گیا ہے ، رام بن میں50 سے زائد سرپنچوں اور پنچوں نے با اختیار بنانے کے وعدوں پر عملدر آمد نہ ہونے پر اجتماعی طور پر استعفی دے دیا ۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بدسے بدتر ہو چکے ہیں، بھارتی حکومت سیاسی مفادات کے لئے ظالمانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ کانگریس کمیٹی کی جموں و کشمیر امور کی انچارج اور رکن بھارتی پارلیمان رجنی پاٹل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہمیں کشمیریوں کے آنسو پونچھنے کی ضرورت ہے ،شہریوں کے قتل کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں ،مودی حکومت نے مزید 7سو گجر خاندانوں کو 15روز میں گھر خالی کرنے کا حکم دیدیا۔