اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)نیب کی جانب سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر 50ملین ڈالر نقصان پہنچانے کے سکینڈل کی تحقیقات شروع کئے جانے کے بعد پٹرولیم ڈویژن حرکت میں آگیا۔ 8ماہ سے ملکی سستی گیس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر خلاف ضابطہ تعینات ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشن عمران احمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد جوائنٹ سیکرٹری سائرہ نجیب کو قائم مقام ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشن تعینات کردیا گیا ۔ پٹرولیم ڈویژن کے مختلف شعبوں میں تعینات نجی کمپنیوں کے نمائندوں کو بھی فارغ کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ۔4ڈالر کی گیس کی راہ میں رکاوٹ بن کر 10ڈالرکی درآمدی گیس کی راہ ہموار کی گئی۔ 92نیوز کوموصول دستاویزکے مطابق نیب نے ملکی گیس کی پیداوار میں رکاوٹ ڈال کر قومی خزانے کو 50ملین ڈالر نقصان پہنچانے کے سکینڈل میں ڈائریکٹرجنرل پٹرولیم کنسیشن عمران احمد ، دیگر افسران کیخلاف تحقیقات شروع کیں۔نیب تحقیقات کے بعد پٹرولیم ڈویژن کے سینئرحکام نے مختلف شعبوں میں گذشتہ 15سال سے نجی کمپنیوں کیخلاف ضابطہ تعینات افسران کو فارغ کرنیکا فیصلہ کیا۔ دستاویز کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشن عمران احمد نے عالمی کمپنی آئی پی آر کی رپورٹ کو خلاف ضابطہ مسترد کرتے ہوئے قومی خزانے اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ بدین فور منصوبے میں پاکستانی اور دوغیر ملکیوں کمپنیوں کی 6کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ نیب نے پٹرولیم ڈویژن سے 25 سوالات کے جواب،متعلقہ افسران کی سی وی،تصدیق شدہ رپورٹس 6 اپریل تک طلب کررکھی تھیں۔ ترجمان پٹرولیم ڈویژن ساجد محمود قاضی نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشن عمران احمد کو عہدے سے ہٹاکر جوائنٹ سیکرٹری سائرہ نجیب کو ڈی جی پی سی تعینات کردیا گیا۔