لاہور(وقائع نگار،92 نیوزرپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا نیا شہر لاہور ہی نہیں پورے ملک کی ضرورت ہے ،مجھے منصوبے کے ذریعے نیا پاکستان کا تصور نظر آرہا ،ماضی کے حکمران ملک کوقرضوں کی دلدل میں دھکیل کرچلے گئے ، نوجوانوں کو ہنردینگے ،بلاسودقرضے بھی دینگے ،دیوانے ہی بڑا کام کرتے ہیں۔وزیراعظم لاہور میں نے راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پر اجیکٹ کاسنگ بنیادرکھ دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ راوی ریور منصوبہ آسان نہیں بلکہ بڑا مشکل ہے ، نیا شہر بنانے میں رکاوٹیں آئیں گی۔لاہور میں 40فیصد کچی آبادیاں ہیں، یہ شہر تیزی سے پھیل رہا ہے ، ان میں رہنے والوں کا کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں،اس منصوبے کی جلد تکمیل ہونی چاہئے ، حکومت اس منصوبے میں ہرممکن تعاون کرے گی،یہ پراجیکٹ لاہورہی نہیں پورے پاکستان کی ضرورت ہے ،پانی کامسئلہ بھی حل ہوگا،راوی دوبارہ دریابن جائیگا۔وزیراعظم نے کہا 31سال پہلے جب شوکت خانم ہسپتال کیلئے زمین دی گئی تووہاں صرف کھیت تھے ،اس پراجیکٹ میں کافی مشکلات آئیں،20سال پہلے میانوالی میں ٹیکنیکل کالج بنانے کا سوچا،نمل یونیورسٹی بناتے وقت مشکلات کاسامناکرناپڑا،مجھے اس منصوبے کے ذریعے نیا پاکستان کا تصور نظر آرہا ہے ،ماضی کے حکمراں ملک کوقرضوں کی دلدل میں دھکیل کرچلے گئے ،مشکل حالات میں کیمرا مین مائیک پکڑکرپوچھتے ہیں کدھر ہے نیاپاکستان؟جب مشکل حالات میں ایسے سوال کریں گے تولوگ برابھلاتو کہیں گے ۔جو بھی بڑے کام کرتا ہے اسکی سوچ بڑی ہوتی ہے ، دیوانے ہی بڑے کام کرتے ہیں ۔عمران خان نے کہاپاکستان مدینہ کی ریاست کے اصولوں پربناتھا، سابق حکمرانوں کی ترجیح پیسہ بنانا تھا،کچی آبادیوں والوں کا کبھی کسی نے بھی نہیں سوچا،جب کوروناآیاتومجھے سخت لاک ڈاوَن لگانے کاکہاگیا،جب غریب آدمی کوآپ گھرمیں بندکریں گے توان کاکیابنے گا،بھارت میں غریب طبقے کانہیں سوچاگیاجس کی وجہ سے وہاں آج بحران ہے ۔کورونا کے خلاف ہماری حکمت عملی کامیاب رہی۔پاکستان کوریاست مدینہ طرزپرفلاحی ریاست بنائیں گے ۔چین نے 70کروڑلوگوں کوغربت سے نکالا۔غریب طبقے کوریلیف دینے کے لیے ہم نے سب سے پہلے ہیلتھ کارڈدیا،خیبرپختونخوامیں تمام شہریوں کوہیلتھ کارڈدیئے گئے ،غریبوں کاخیال رکھنے کے لیے پناہ گاہ کاتصورلائے ۔پناہ گاہوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کریں گے ،پہلی بارلوگوں کواپناگھربنانے کاموقع دے رہے ہیں،غریب کے لیے ہاوَسنگ شعبے میں30ارب کی سبسڈی دی ہے ۔ احساس پروگرام غریبوں کوغربت سے نکالے گا، نوجوانوں کو ہنردیں گے ،بلاسودقرضے بھی دیں گے ۔ وزیراعظم نے سنگ بنیادکے موقع پرپودابھی لگایا۔ تقریب میں گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب ، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز جبکہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے اراکین اور دیگر عہدیدار موجود تھے ۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان سے گورنرہائوس میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم کو صوبے کے انتظامی امورپربریفنگ دی،سانحہ موٹروے کی تفصیلات اور رپورٹ پیش کی۔وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کوپنجاب میں تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق اقدامات پربھی بریفنگ دی۔وزیراعظم سے گورنرپنجاب چوہدری سرور نے بھی ملاقات کی۔گورنرنے فلاحی کاموں،یونیورسٹیزاصلاحات،پنجاب آب پاک اتھارٹی سے متعلق آگاہ کیا،ملاقات میں سیاسی، حکومتی اور دیگر امور کے بارے میں بات چیت کی گئی،وزیراعظم عمران خان نے پنجاب آب پاک اتھارٹی اور یونیورسٹیزریلیف اقدامات کوسراہا۔وزیر اعظم کی زیر صدارت لاہور میں صوبہ پنجاب میں امن وامان، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور ان کی قیمتوں اور فلاحی منصوبوں کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء شفقت محمود، فیصل واوڈا، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر، سینیٹر فیصل جاوید، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزرا محمد بشارت راجہ، فیاض الحسن چوہان، مخدوم ہاشم جواں بخت، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس پنجاب اور سینئر افسران شریک ہوئے ۔اجلاس میں وزیر اعظم کوتفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آئی جی پولیس کی جانب سے سنگین جرائم بشمول قتل، اغوا، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں، موٹر وے زیادتی کیس میں پیشرفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے منشیات فروشوں اورقبضہ مافیاکیخلاف کریک ڈاؤن کاحکم دیدیا۔ملک بھر میں ایک ایمر جنسی نمبر نافذ کرنے اور جرائم کا سنٹرل ڈیٹابیس قائم کرنے پر غور کیا گیا جبکہ وزیر اعظم نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ خصوصا گندم کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے جبکہ وزیر اعظم کو پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پروزیر اعظم نے کہا کہ انصاف، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی اور بنیادی سطح پر عوام کو بااخیتار بنانا اور ان کو نمائندگی دینے سے ہی بہتر طرز حکومت اور عوامی خدمت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔وزیر اعظم نے واضح کیاکہ فلاحی ریاست کی طرف سفر ہی قوم کی خوشحالی کا سفر ہے ۔