نیویارک( ندیم منظور سلہری سے ) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے مسئلہ کشمیر ایشو پر پاکستانی موقف کی حمایت کو نیویارک کے سفارتی حلقوں نے بھارت کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روز کا معمول ہیں۔بھارت کو چاہئے کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا احترام کرے ۔ " 92 نیوز" سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ سفیر ملیحہ لودھی کی کامیاب سفارتکاری کی بدولت بھارت کو ہر میدان میں مشکلات اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ڈاکٹر تبسم آرائیں نے کہا کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت میں سوگ کی سی کفییت ہے ، اُن کو شائد ایسی دستاویزی رپورٹ کے شائع ہونے کی توقع نہیں تھی جس میں بظاہر پاکستان کو کلین چٹ دیدی گئی ہے ۔سکالر پروفیسر جانسن جونز کے مطابق کشمیر میں اس وقت بھارت کی تقریباً آٹھ لاکھ مسلح فوج موجود ہے لیکن وہ ایک چھوٹے سے علاقے کو کئی دہائیوں سے عوام پر تمام مظالم ڈھانے کے باوجود نہ تو لوگوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہوئی اور نہ ہی وہاں امن لانے میں ، کشمیری نوجوان پتھروں سے ان فورسز کا مقابلہ کر رہے ہیں جو دنیا کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ کشمیر کا حل اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب امریکہ، روس ، چین اور اقوام متحدہ کھل کر بھارت پر دبائو نہیں ڈالتے پاکستانی کمیونٹی نے سفیر ملیحہ لودھی کی کامیاب سفارتکاری پر انہیں مبارکباد پیش کی ہے ۔