لاہور(سٹاف رپورٹر) ملی یکجہتی کونسل نے ملک گیر" تحریک ریاست مدینہ "چلانے کا فیصلہ کیاہے ۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی میزبانی میں منصورہ میں ملی یکجہتی کونسل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم نے انتخابات میں قوم سے پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کا جو وعدہ کیا تھا انہیں وہ وعدہ یاد دلانے کیلئے بڑے شہروں میں " ریاست مدینہ "کے نام سے کنونشن منعقد کیے جائیں گے ،تحریک کے لائحہ عمل ، پروگرامات کو حتمی شکل دینے کیلئے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایکشن کمیٹی بنا دی گئی ، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سراج الحق ، حافظ عبدالغفار روپڑی ، ضیائاﷲ شاہ بخاری ، علامہ عارف واحدی ، قاضی ظفر الحق ، معین الدین محبوب کوریجہ ، پیر غلام رسول اویسی ، مولانا عبدالمالک ، نذیر احمد جنجوعہ ، ثابت اکبر اور پیر سید لطیف الرحمنٰ سمیت ملک کی 19 معروف دینی جماعتوں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہاکہ ملک میں شعائر اسلام اور اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جارہا ہے ، سب سے زیادہ مذاق مدینہ کی اسلامی ریاست کو بنایا جارہاہے جس کا وعدہ کر کے خود وزیراعظم نے اس سے انحراف کیا، بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہوگیا، اجلاس میں عوام کے معاشی قتل عام کی مذمت کی گئی ۔انہوں نے سراج الحق کی طرف سے سینیٹ میں پیش کیے گئے سود کے خلاف اور سی ایس ایس امتحانات قومی زبان اردو میں لینے کے بل متفقہ طور پر پاس ہونے پر جماعت اسلامی کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کشمیر میں بھارتی اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ امریکہ فوری طور پر مشرق وسطیٰ سے اپنی فوجیں نکالے ۔ انہوں نے ختم نبوت کے خلاف ہونیوالی سازشوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ وزیراعظم نے مدینہ کی ریاست کے وعدے سے بھی یوٹرن لے لیا ،تمام مسائل کاحل ملک میں نظام مصطفیؐ کے نفاذ میں ہے ۔اجلاس میں مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی شہید اور ڈاکٹر سید وسیم اختر مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے دعائے مغفرت کی گئی ۔