وفاقی حکومت نے منی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ جس کے تحت گزشتہ دور حکومت میں ٹیکس استثنیٰ کے معاملے پر بھی ترمیم لائی جائے گی۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں ترمیم ہو گی اور 12لاکھ روپے کے بجائے 8لاکھ روپے تک آمدنی والوں کو بھی انکم ٹیکس دینا ہو گا۔ ان اقدامات سے مجموعی طور پر 800ارب روپے کا اضافی ریونیو ملے گا‘ کسی بھی ملک کے معاملات مملکت چلانے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے، حکومتیں یہ رقم مختلف ذرائع سے حاصل کرتی ہیں‘ جن میں ایک طریقہ ٹیکس نیٹ ورک کی توسیع ہے ، دوسرے نمبر پر قدرتی وسائل کی پیداوار زیادہ سے زیادہ بڑھائی جاتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں تیل محدود مقدار میں پایا جاتا ہے اور گیس کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں اس لیے موجودہ حکومت نے اول الذکر طریقے کے تحت ٹیکس نیٹ ورک کو توسیع دے کر ملکی معاملات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا باقاعدہ ایک نظام موجودہے جس سے حاصل ہونے والی آمدنی تعلیم ‘ صحت، انفراسٹرکچر اور سبسڈیز مہیا کرنے پر صرف کی جاتی ہے موجودہ حکومت نے ٹیکس نیٹ کو توسیع دے کر غریب آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے ،جس سے مستقبل قریب میں عوام کو ریلیف ملنے کا امکان ہے ۔ حکومت ٹیکس کے نظام کو فعال کر کے اسے اس انداز سے خرچ کرے کہ غربت میں کمی اور معاشی ترقی میں بہتری آئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی حکومتیں زیادہ کمانے والوں سے لے کر کم آمدنی والوں پر خرچ کرتی ہے جس کے باعث ان ملکوں میں غربت میں کمی اور خوشحالی آتی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکس وصولی کا نظام کمزور ترین ہے ۔ عالمی بنک نے 2006ء میں اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ 128ممالک میں سے پاکستان میں ٹیکس عائد کرنے اور وصول کرنے کی صلاحیت صرف 22ملکوں سے اوپر ہے۔ پاکستان کے بعد افغانستان اور خانہ جنگی وتشدد کا شکار وسطی افریقی جمہوریہ ہے۔ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام فرد واحد کی اتھارٹی، غیر منصفانہ اختیارات، بدعنوانی اور دیگر نقائص سے بھر پور ہے، متعدد کوششوں کے باوجود ایف بی آر ایک شفاف اورکرپشن سے پاک ادارے کے طور پر اپنی حیثیت منوانے میں ناکام رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے بارہا کوششیں کیں لیکن ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور نہ ہی ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہو سکا جبکہ ایف بی آر ٹیکس چوروں کے خلاف قانونی کارروائی میں بھی ناکام رہا‘ پی ٹی آئی حکومت کے ٹیکس نیٹ ورک کو توسیع دینے سے مختلف ایٹمز پر ٹیکس عائد ہونگے لیکن وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اس بات کو یقینی بنائیں کہ نئے ٹیکسز کے نفاذ میں کمزور طبقہ نہ پس جائے۔ ماضی میں حکومت نے تمام اشیاء پر جی ایس ٹی نافذ کیا تھا، اس میں ماچس کی ڈبی سے لے کر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بلوں تک ہر چیز شامل تھی۔ جی ایس ٹی نے غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا تھاکیونکہ اس ٹیکس سے براہ راست غریب آدمی متاثر ہوا تھا،موجودہ حکومت ٹیکس لازمی عائد کرے لیکن صرف ان افراد پر جو ٹیکس دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اس وقت ٹیکس کا نیا اور عادلانہ نظام ضروری ہے، جو دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا کر امیر اور غریب کے درمیان تفریق کو کم کرے، نومنتخب حکومت اگر عوام کو معاشی انصاف فراہم کرنے میں کامیاب ٹھہرتی ہے تو اس سے عوام خود بخود ٹیکس دینا شروع کر دیں گے۔ سابق حکومت کا ٹیکس سسٹم غیر متوازن اور زمینی حقائق سے متصادم تھا، جس کی وجہ سے غربت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سابق حکومت نے جی ایس ٹی نافذ کر کے غریب عوام پر وہ ظلم کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس ٹیکس سے غریب آدمی مسلسل غربت کی دلدل میں دھنستا رہا ۔ ماضی میں مخصوص کاروباری طبقے کو جو رعایت دی گئی اس پر نظرثانی ضروری ہے کیونکہ اس طبقاتی تفریق سے سنگین معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔2000ء کے بعد جب ود ہولڈنگ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا گیا تو اس کے نتیجے میں ہر استعمال کی چیز پر ودہولڈنگ اور سیلز ٹیکس سرچارج لگایا گیا جس سے صارف کی قوت خرید جواب دے گئی اور معاشرے میں ایک ہیجان برپا ہو ا۔ ٹیکس کے نظام میں بدنظمی اور غیر منصفانہ ٹیکسوں کا نظام حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ایمانداری سے انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں‘ چین اور یورپی ممالک میں ہر فرد اور ادارہ انکم ٹیکس ادا کرتا ہے‘ بھارت ہم سے غریب اور کم وسائل رکھتا ہے۔ وہاں پر 40فیصد عوام فٹ پاتھوں اور پارکوں میں رات بسر کرتے ہیں، وہاں بھی انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد 2کروڑ سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں 2000ء میں انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد 37لاکھ تھی جو 2016ء میں کم ہو کر 20لاکھ رہ گئی تھی جبکہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپریل 2018ء کو پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ اس وقت صرف 7لاکھ افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ گو ماضی میں عوام کو اپنے ادا کردہ ٹیکس کے مصرف کاعلم نہیں تھا اس لیے بھی کچھ لوگ ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرتے تھے لیکن اب ایسے افراد پر مشتمل حکومت برسر اقتدار ہے جو عوام کے پیسے کی حفاظت یقینی بنانے کا وعدہ کر چکی ہے تو پاکستانی قوم کو ایک فریضہ سمجھتے ہوئے اپنا انکم ٹیکس قانون کے مطابق مقررہ وقت پر ادا کرنا چاہیے۔ بالفرض اگر عوام اخلاص نیت سے ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں تو اس سے کثیر سرمایہ وصول ہو سکتا ہے جس کے بعد ہمیں دوسرے ٹیکس یا سرچارج لگانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ حکومت اگر عوام کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی خواہاں ہے تواس سلسلے میں چند اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے ایف بی آر اور اس کے ذیلی اداروں کی تنظیم نو کی جائے ان اداروں کو سفارشی‘ کام چور اور غیر متعلقہ افراد سے پاک کیا جائے۔ سیلز ٹیکس‘ جی ایس ٹی اور ودہولڈنگ ٹیکس جو مہنگائی کی اصل جڑ ہیں اسے فی الفور کم کیا جائے۔ سرچارج ڈیوٹی اور سروس خدمات پر ٹیکس بھی کم کیا جائے۔ ٹیکس چوروں کی اطلاع دینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ جن لوگوں نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر اثاثے ظاہر کئے ہیں انہیں مستقل ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ٹیکس گزار اور ٹیکس حکام کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم کئے جائیں۔ بے رحمانہ احتساب کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں منصفانہ ٹیکس عائد کیا جائے۔ ان اقدامات سے بھی اضافی ریونیو ملنے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو یقینی بنائے اس سے معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہونگے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔