اسلام آباد،کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی ،صباح نیوز) منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، 29 جعلی اکاؤنٹس میں 6 ماہ کے دوران 4 سے 7 ارب روپے نقد نکالنے کا انکشاف ہوا ہے ۔جو ڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری کے قریبی ساتھی حسین لوائی اور طحہ رضا کے ریمانڈ میں 14 جولائی تک کی توسیع کردی،جس کے بعدحسین لوائی کو تفتیش کیلئے اسلام آبادمنتقل کردیا گیا جہاں پرڈی جی ایف آئی اے سمیت دیگر افسران نے 3گھنٹے تک حسین لوائی سے تفتیش کی، جس دوران حسین لوائی کی جانب سے اہم انکشافات کئے گئے ، حسین لوائی کے بیان کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی کی جائیں گی،لوائی کو آج سپریم کورٹ میں پیش کئے جا نے کا امکان ہے ۔تفصیلات کے مطابق بوگس اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کے کیس کی تحقیقات میں چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں ، ذرائع کے مطابق 29 جعلی اکاؤنٹس میں سے 6ماہ کے دورن 4سے 7ارب روپے کیش نکالے گئے ،ایک اکا ؤنٹ سے مختلف اوقات میں 45کروڑ روپے نکالے گئے جب کہ دیگراکاؤنٹس سے بھی مختلف اوقات میں بڑی نقد رقم نکالی گئی،ذرائع کاکہناہے کہ کیش نکالتے وقت بنک حکام کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیاگیا،نکالی جانے والی رقم کہاں گئی اسکی بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں،ادھر بدھ کو منی لانڈرنگ کیس میں حسین لوائی اور طحہ رضا کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر ایف آئی اے نے عدالت میں ابتدائی تفتیشی رپورٹ پیش کی جبکہ تفتیشی افسر نے ملزموں سے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کردی،سماعت کے دوران وکیل حسین لوائی نے موقف اختیارکیا کہ یہ ڈکیتی کا مقدمہ نہیں جو کیس پراپرٹی برآمد کرنی ہو، اکا ئو نٹ میں رقم آئی اور دوسرے کے اکاؤنٹ میں چلی گئی جب کہ اکاؤنٹ میں آنے والی رقم کا ریکارڈ سٹیٹ بینک کو بھیج دیا جاتا تھا۔ایف آئی اے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر ہی ریکارڈ فراہم کیا جارہا ہے ، 15 جنوری سے تحقیقات کررہے ہیں لیکن کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا جبکہ حسین لوائی کو سپریم کورٹ میں پیش کرنا ہے لہذا ریمانڈ دیا جائے ،عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد حسین لوائی اور طحہ رضا کے ریمانڈ میں 14 جولائی تک کی توسیع کردی۔