مکرمی !انسانی تمدن وثقافت کے صحت مند ارتقا اور معاشرہ کی ترقی واستحکام کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرہ میں پرورش پانے والے بنی نوع انسان اپنے مشاہدات، تجربات،عقائد، اقدار، ادراک اور معلومات کو نسل آئندہ کے سپرد کر کے جائے۔معلومات کا نسل در نسل انتقال ہی دراصل تعلیم ہے ۔تعلیم ایک ایسی قوت ہے جو انسان کی طبعی میلان،صلاحیتوں،جوہر اور تخلیقی قوتوں کی عکاس ہوتی ہے۔معاشرتی ارتقا و ترقی اور عمرانی نظریات سے ہی کسی ملک کے تعلیمی معیارات،احیا اور نشوونما کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔اس لئے کہ تعلیم معاشرہ کی سمت اور نصب العین متعین کرتی ہے۔اگرچہ نصاب سازی کرتے ہوئے مختلف بنیادوں جیسے کہ معاشرتی، عمرانی، نفسیاتی اور مذہبی کو مدنظر رکھا جاتا ہے لیکن جو اہمیت تعلیمی معیار میں ثقافتی بنیادوں کا ہے وہ کسی اور کا نہیں ہے۔اس لئے کہ کسی بھی معاشرہ کی پہچان اس کی ثقافت ہی ہوا کرتی ہے جتنی ثقافتی اقدار مضبوط بنیادوں پر استوار ہوں گے معاشرہ اتنا ہی مضبوط دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح معاشرہ کی ترقی واستحکام کا اندازہ بھی اعلی تعلیمی معیارات سے ہی لگایا جاتا ہے۔اسی ثقافتی بنیادوں کی استقامت کی وجہ سے ہی برطانیہ نے آدھی دنیا پر حکومت کی ہے۔حالانکہ ان کے پاس ماسوا میگنا کارٹا1215 کے اپنا کوئی تحریری آئین بھی نہیں ہے لیکن وہ اپنی رواجات اور روایات کے ساتھ اتنی مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں کہ وہ انہیں ہی اپنا قانون اور آئین خیال کرتے ہیں۔گویا ان کی رواجات واقدار ہی ان کا آئین ہے اور ہر برطانوی شہری اسے دل سے قبول بھی کرتا ہے۔بہت سے دیگر نظاموں کی طرح پاکستان میں نظام تعلیم میں بھی اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے کیونکہ بہتر سال گزرنے کے باوجود ہم ابھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کی چکر میں نہ مکمل طور پر انگلش میڈیم اور نہ ہی پوری طرح اردو میڈیم کو متعارف کروا سکے ہیں ۔ برصغیر تعلیمی لحاظ سے واضح طور پر دو حصوں میں منقسم دکھائی دیتا ہے جو کہ اب تک قائم ہے ۔ ہم اپنے نظام تعلیم کو جدید بنیادوں پر استوار کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت کو بھی بنیاد بنا لیں اور مکمل مضبوطی کے ساتھ اس سے چمٹ جائیں تو آج بھی ہم تعلیمی میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔انشا اللہ (مرادعلی شاہدؔ دوحہ قطر)