امام کعبہ ڈاکٹر الشیخ عبداللہ عوادالجہنی نے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں علماء کرام کا کردار اہم ہے۔ وہ جو بھی فتویٰ دیں حق پر مبنی ہونا چاہیے۔ نبی کریمؐ نے علماء کرام کو انبیاء ؑ کا وارث قرار دیا ہے۔ اس نسبت سے علماء کرام پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کا قول وفعل، چال چلن اور حالات زندگی پوری امت کے لئے ایک نمونہ ہوں۔ جس سے رہنمائی کشید کر کے عوام الناس اپنی اخروی زندگی کو کامیاب و کامران بنا سکیں۔ موجودہ دور میں اسلام کے خلاف فتنے سر اٹھا رہے ہیں ان سے نمٹنے کے لئے علماء کرام کو قرآن و سنت کی روشنی میں آگے بڑھنا چاہیے۔ علماء کرام کو نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سوچ سمجھ کر صبر و تحمل سے فتویٰ دینا چاہیے تاکہ اس پُر فتن دور میں اسلام دشمن قوتیں اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکیں ۔علماء امت کو صحیح رہنمائی کے لئے کتاب و سنت ‘ سیرت مصطفی اسوہ صحابہ کرام ؓاور کلمہ طیبہ کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنا چاہیے ‘ فقہی گروہی اختلافات کو انتشار ‘ تشدد اور فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھنے سے بچانا چاہیے تاکہ دشمن آپ کی صفوں میں پیدا ہونے والے انتشار سے فائدہ اٹھا کر اسلام کو بدنما نہ کر سکے۔ علماء کرام امت محمدیہ کے وہ ستارے ہیں جن سے پوری امت رہنمائی حاصل کرتی ہے اس لئے افکار، کردار، اخلاق، سیرت، صورت، اندز تکلم، لین دین ‘ دوستوں‘ ہمسائیوں اور عزیز و اقارب سے تعلقات سب مثالی ہونے چاہیں ۔