بجٹ 2020-21 میں مرکزی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران 30,42,230 کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ریونیو یا آمدنی میں جو کمی آئی اسے پورا کرنے کیلئے7,96,337 کروڑ روپے قرض حاصل کیا جائے گا۔ یہ دراصل بجٹ کا مالیاتی خسارہ تھا جو ملک کی قومی مجموعی پیداوار کے 3.5 فیصد حصہ کے برابر ہے لیکن کورونا وائرس کے بحران نے تمام حساب کتاب اور اندازوں کو بدل کر رکھ گیا۔ ہر ماہر اقتصادیات نے یہ دیکھا کہ قرض 7,96,337 کروڑ روپے تک محدود نہیں رکھا جاسکتا بلکہ ہندوستان کو مزید قرض حاصل کرنا ضروری ہے۔ سب اسی طرح کی باتیں کررہے تھے لیکن واحد حکومت تھی جو اس کی تردید کررہی تھی۔ 8 مئی کو حکومت نے بڑی مشکل سے یہ اعتراف کیا کہ وہ مزید 4.2 لاکھ کروڑ روپے قرض حاصل کرے گی۔ اس طرح بطور قرض حاصل کردہ رقم تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے ہو جائے گی۔ جبکہ مالیاتی خسارہ 5.3 فیصد ہوگا۔ یہ صرف خلیج پاٹنا ہے میں نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ اضافی قرض اس صورت میں ایک fiscal stimulus(محرک اقتصادیات) ہوگا۔ جب وہ ہمارے ملک کی آبادی کے نصف حصہ پر مشتمل غریب خاندانوں کی مدد و اعانت کے لئے نقد رقم فراہم کرنے استعمال کیا جائے گا۔ ساتھ ہی اسے مکمل طور پر ساکت و جامد ہوتی معیشت میں دوبارہ حرکت پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ میں نے سنا ہے کہ 4.2 لاکھ کروڑ روپے کی اضافی رقم ’’خلیج پاٹنے‘‘ کے لئے استعمال کی جائے گی۔ حکومت کو یہ توقع ہے کہ اسے تخمینہ ٹیکس ریونیوز یا آمدنی محاصل کی شکل میں بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ اگر یہ خلیج اندازاً 4.2 لاکھ کروڑ روپے ہوتی ہے تو جو اضافی قرض لیا گیا وہ اس خلیج کو پاٹنے میں معاون ثابت ہوگا اور یہ ناگزیر ہے لیکن 4.2 لاکھ کروڑ روپے کی رقم کا یقیناfiscal stimulus(محرک اقتصادیات)کے طور پر شمار نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہم ایک سادہ اسٹیٹمنٹ آف اکاونٹس کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تمام آمدنی (ٹیکس، نان ٹیکس، موصول سرمایہ، اور قرض) 30,42,230 کروڑ روپے ہوگا۔ اس طرح اضافی قرض 4,20,000 کروڑ روپے بنتا ہے۔ آمدنی میں کم سے کم کمی 4,20,000 کروڑ روپے ہوگی اس طرح جملہ نقد آمدنی 30,42,230 کروڑ روپے بنتی ہے۔ جہاں تک مصارف کا سوال ہے تمام مصارف بھی 30,42,230 کروڑ روپے ہوں گے۔ MP LADS میں کم کٹوتی 3,960 روپے اور ڈی اے، ڈی آر میں 37,530 کروڑ روپے کا اضافہ ظاہر کیا گیا۔ اس طرح یہ بتایا گیا کہ جملہ نقد مصارف 30,00,740 کروڑ روپے ہیں۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بارے میں تصویر زیادہ واضح نہیں کہ آیا حکومت مصارف کے دیگر ایٹمز میں کٹوتی کرے گی یا نہیں۔ حکومت نے اب تک جن کٹوتیوں کا اعلان کیا ہے اس سے حکومت کو 41,490 کروڑ روپے بچانے کی مدد ملے گی اور یہ رقم کووڈ۔ 19 سے متعلق مصارف کے لئے دستیاب رہے گی۔ اس لئے اسے fiscal stimulus میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اْس 1.7 لاکھ روپے کے پیاکیج کو بھی حال ہی میں اعلان کردہ 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیاکیج میں شامل کرے گی جو اْس نے 25 مارچ کو ایک fiscal stimulus کے طور پر اعلان کیا تھا۔ حقیقت میں جو اضافی نقد رقم جاری کی گئی وہ صرف 60 ہزار کروڑ روپے تھی اور 40 ہزار کروڑ روپے مالیتی اناج کی شکل میں ظاہر کی گئی۔ (پہلے یہ بجٹ میں شامل نہیں تھی) اس لئے ہم صرف ایک لاکھ کروڑ روپے کو fiscal stimulus کی حیثیت سے شمار کرسکتے ہیں۔ مجھے ایسا بھی لگتا ہے کہ حکومت ایک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے آر بی آئی نے اضافی لیکویڈیٹی کی فراہمی کے لئے جو اقدامات کئے تھے اسے بھی fiscal stimulus میں شمار کر سکتی ہے۔ اگر وہ ایسا کرتی ہے تو پھر اقتصادی الجھن میں اضافہ ہوگا۔ جہاں تک fiscal stimulusکا سوال ہے یہ طلب کے لئے درکار ہوتی ہے۔ آپ کو بتادوں کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے 27 مارچ سے 5.24 لاکھ کروڑ روپے اضافی لیکویڈیٹی سپورٹ فراہم کی ہے۔ جواب میں اس تاریخ سے بینکوں نے آر بی آئی میں 4.14 لاکھ کروڑ روپے کی اضافی رقم جمع کررکھی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہوگا کہ غیر معمولی بینک کریڈٹس 25 مارچ کو 103.8 لاکھ کروڑ روپے سے کم ہوکر 102 لاکھ کروڑ روپے ہوگئے ہیں۔ 12 مئی کو وزیر اعظم اس وقت سرخیوں میں آگئے جب انہوں نے ملک میں 20 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی امدادی پیکیج کا اعلان کیا لیکن صفحہ سادہ ہی رکھا۔ 13 مئی کے ساتھ ہی وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کے اعلان کردہ پیکیج کی تفصیلات بتانی شروع کردی۔ جن لوگوں کو اس پیکیج سے مایوسی ہوئی ان میں کسان، نقل مکانی کرنے والے مزدور، ایسے ورکرز جو روزگار سے محروم ہوئے، غیر منظم شعبہ اور غیر درج شدہ کاروبار اداروں سے وابستہ ورکرز، جنہیں کورونا وائرس کا خمیازہ بھگتے ہوئے اپنی ملازمتوں سے محروم ہونا پڑا، لوور میڈل کلاس جو کورونا بحران کے بعد نقد رقومات سے محروم ہوگئی اور قرض لینے پر مجبور ہوگئی، شامل ہیں۔ اسی طرح 5.8 کروڑ ایسی چھوٹی اور متوسط صنعتیں (MSMEs)بھی شامل ہیں جو وزیر خزانہ کےMSMEsپیکیج کی شرائط پر پوری نہیں اترتیں۔ وزیرخزانہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کے لئے مالیاتی امداد سے متعلق اقدامات کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ ان لوگوں کو دو ماہ تک راشن مفت دیا جائے گا جس پر 3500 کروڑ روپے کے مصارف آئیں گے۔ (بشکریہ: سیاست ، بھارت)