نیویارک (آن لائن)جنوبی ایشیا کے حالات پرنظر رکھنے والے تجزیہ کار پیٹرفریڈرک کا کہنا ہے مغرب میں سفیدفام انتہاپسندوں اور بھارت میں آرایس ایس اور ماضی کی نازی پارٹی کے نظریات ایک ہی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پیٹرفریڈرک نے ہیوسٹن میں مودی کی ریلی کی کڑی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے ہاتھ بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ہیوسٹن سٹی کونسل کے اجلاس میں خطاب کے دوران پیٹرفریڈرک نے کہا ہیوسٹن میں رہنے والوں کو مودی کو خوش آمدید کہنے کے بجائے کہنا چاہیے کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔ مودی نے 2002ء میں آرایس ایس کے فوجی کی حیثیت سے دوہزارمسلمانوں کے قتل عام کی نگرانی کی۔آرایس ایس کے کارندوں نے خواتین سے اجتماعی زیادتی کی،گردنیں کاٹیں اور مسلمانوں کو زندہ جلایا۔ اس قتل عام کی منصوبہ بندی کرنے والے سرکردہ رہنمائوں نے بعد میں کیمرے کے سامنے اقرارکیا کہ اس تشدد کی منظوری خود نریندرمودی نے دی تھی ۔ اسی وجہ سے مودی پردس سال تک امریکہ میں داخلے پرپابندی تھی۔مودی کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ جو مودی کوخوش آمدید کہنے کیلئے اس سے ہاتھ ملائیں گے وہ اس کے جرم میں برابرکے حصہ دارہونگے اوروہ یہ داغ کبھی نہیں مٹاپائیں گے ۔