اللہ رے نریندر مودی کا طنطنہ۔ ملاحظہ فرمائیے حضرت کیا فرماتے ہیں… ’’میں جو ٹھان لیتا ہوں وہ کر کے دکھاتا ہوں۔‘‘ مودی نے یہ جملہ پچھلے ہفتے ہریانہ میں ایک الیکشن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے استعمال کیا تھا۔ ان کا مقصد و معنی یہ تھا کہ ہریانہ اور پنجاب کی جن ندیوں کا پانی پاکستان جاتا ہے وہ اس کو پاکستان جانے سے روک دیتے ہیں۔ اور خالص فلمی اسٹائل میں مودی نے اس نکتہ کو عوام پر اثرانداز بنانے کے لیے یہ ڈائیلاگ ادا کیا کہ ’’میں جو ٹھان لیتا ہوں وہ کر کے دکھاتا ہوں۔‘‘ ظاہر ہے کہ نریندر مودی 2019 ء کے لوک سبھا چناؤ کی طرح حالیہ ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی چناؤ کے درمیان بھی پاکستان کارڈ کا استعمال کر رہے تھے اور ان کو امید تھی کہ بی جے پی ایک بار پھر ان دونوں ریاستوں میں زبردست کامیابی کے ساتھ برسراقتدار آئے گی۔ لیکن جناب بقول مشہور شاعر جذبی ’’جب لاد چلے گا بنجارا، سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا‘‘۔ جی ہاں، ہریانہ اور مہاراشٹر دونوں ریاستوں میں بی جے پی دوبارہ حکومت بنانے میں تو کامیاب ہو گئی، لیکن ان دونوں ریاستوں کے چناؤ نتائج نے واضح کر دیا کہ لوک سبھا چناؤ کے محض چار ماہ بعد مودی لہر ڈھیلی پڑ گئی۔ ہریانہ میں تو بی جے پی اکثریت تک حاصل نہیں کر سکی۔ آخر آزاد ایم ایل اور دشینت چوٹالہ کی مدد سے بی جے پی مخلوط سرکار بنانے میں رو پیٹ کر کامیاب ہوئی۔ مہاراشٹر جہاں بی جے پی اور میڈیا دونوں کو یہ امید تھی کہ وہاں تو اس بار شیو سینا اور بی جے پی اتحاد کو کم از کم دو تہائی کامیابی ملے گی، وہاں بھی یہ اتحاد پہلے سے بھی کم سیٹوں پر سکڑ کر رہ گیا۔ پچھلی بار مہاراشٹر میں بی جے پی-شیو سینا اتحاد کو 182 سیٹیں ملی تھیں جب کہ اس بار اس اتحاد کو کل 162 سیٹیں ملی ہیں۔ جب کہ کانگریس اور شرد پوار کی پارٹی این سی پی کو حالیہ چناؤ میں 104 سیٹیں ملی ہیں جو پچھلے چناؤ میں ملی سیٹوں (83) سے زیادہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی ہریانہ اور مہاراشٹر دونوں ریاستوں میں حکومت بنانے میں دوبارہ کامیاب ہوئی ہے لیکن ان دونوں ریاستوں کے انتخابی نتائج بے حد چونکانے والے اور سیاسی اعتبار سے انتہائی معنی خیز ہیں۔ سب سے اہم بات جو ان نتائج سے ابھر کر آئی وہ یہ ہے کہ پچھلے لوک سبھا چناؤ سے اب تک چار ماہ کی مدت میں ہندوستان میں ہندوتوا نظریہ کا اثر کافی حد تک کم ہوا ہے۔ سنہ 2019 کے لوک سبھا چناؤ نریندر مودی نے خالص ہندوتوا نظریہ پر ڈالے تھے۔ ان کا چناؤ کیمپین تھا بالاکوٹ یعنی پاکستان منافرت یا بالفاظ دیگر مسلم مخالفت۔ یاد ہے اس چناؤ میں ان کا کیا ڈائیلاگ تھا ’’بدلہ لینا میری فطرت ہے، میں گھر میں گھس کر بدلہ لیتا ہوں۔‘‘ یعنی پورا چناؤ کیمپین کشمیر میں پاکستان کے دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے پر منحصر تھا۔ بدلے کا جذبہ منافرت پر منحصر ہوتا ہے اور مودی پاکستان کے خلاف منافرت کا جذبہ پیدا کر مسلم مخالفت پر مبنی ہندو ووٹ بینک بنانے کی ہندتوا حکمت عملی پر سرگرم تھے۔ اور ان کی یہ حکمت عملی پوری طرح کامیاب رہی تھی۔ کیونکہ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں 303 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں جو بی جے پی کا اب تک کا سب سے شاندار نتیجہ تھا۔ اس چناؤ میں مودی نے ترقی کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔ یعنی مودی 2019ء لوک سبھا چناؤ کو خالص مسلم منافرت یعنی ہندوتوا نظریہ پر لڑے اور پوری طرح کامیاب رہے۔ اس کے مقابلے 4 ماہ بعد ہی مودی ہریانہ میں بی جے پی کو اکثریت نہیں دلوا پائے۔ جب کہ مہاراشٹر میں بھی ہندوتوا نظریہ اتحاد کو وہ کامیابی نہیں ملی جس کی امید تھی۔ جب کہ ان چناؤ میں بھی بی جے پی پاکستان کارڈ کا ہی استعمال کر رہی تھی۔ یعنی اب ملک میں موڈ بدل رہا ہے۔ بی جے پی محض مسلم منافرت کی سیاست پر منحصر نہیں رہ سکتی۔ آخر یہ تبدیلی کیوں! ہندوستانی عوام کا سیاسی رجحان اب محض جذبات پر منحصر نہیں ہے بلکہ وہ اب بڑی کثرت میں زمینی حقائق کی بنا پر اپنے فیصلے کرنے لگی ہے۔ اور زمینی حقیقت کیا ہے… روزگار غائب، کسان بھکمری کا شکار، تجارت بے حال، بازاروں سے رونق غائب۔ لب و لباب یہ کہ پچھلے چار ماہ میں ہندوستانی معیشت کا جیسا برا حال ہوا ہے اس کی نظیر کم از کم پچھلی چار دہائیوں میں تو ملتی نہیں ہے۔ ہندوستانی معیشت کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بسکٹ بنانے والی پارلے جی کمپنی نے اکیلے دس ہزار لوگوں کو ملازمت سے باہر کر دیا۔ اس کے معنی کیا ہوئے۔ بات صاف ہے کہ عام آدمی اب بسکٹ جیسی معمولی چیز بھی کم خرید رہا ہے۔ تب ہی تو پارلے جی دس ہزار افراد کو باہر کر اپنی ایک فیکٹری میں تالا لگانے پر مجبور ہے۔ ہریانہ اور مہاراشٹر چناؤ کے نتائج کے پس منظر میں ملک کا سیاسی پس منظر کچھ یوں ہے کہ مودی لہر ڈھیلی پڑ گئی ہے اور عوام معاشی بدحالی سے پریشان ہو کر بی جے پی سے منھ موڑ رہے ہیں۔ لیکن اپوزیشن پارٹیاں اس بدلتی صورت حال کا فائدہ اٹھانے کو پوری طرح تیار نہیں ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو مودی اگلا چناؤ بھی جیت جائیں گے، کیونکہ رام مندر جیسے ابھی بہت سے جذباتی معاملے ہیں جن پر وہ بی جے پی کو ڈھو سکتے ہیں۔ اس لیے سب سے بڑی سیاسی ضرورت یہی ہے کہ سب سے پہلے 2004 ء کی طرح اپوزیشن پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوں۔ اس سلسلے میں کانگریس کا رول سب سے اہم ہے۔ پارٹی کو جلد از جلد اپنی نا اتفاقیوں کو ختم کر اپوزیشن اتحاد کے لیے فوراً کمان اٹھا لینی چاہیے۔ اور ہر ریاست میں ایک قدآور علاقائی لیڈر کو وہاں کی ذمہ داری سونپ کر عوام کو معاشی بے چینی کے ایشور پر اکٹھا کر بی جے پی کے خلاف یکجا کر ملک کو مودی اور ہندوتوا سیاست سے نجات دلوانی چاہئے۔