لندن (نیٹ نیوز) مودی کے اقتدار میں ایک نیا بھارت ابھر رہا ہے جس پر خوف و دہشت کی حکمرانی ہے ، لوگوں کو بانٹنے ، تقسیم کرنے اور دنیا سے کاٹ کر رکھ دینے کیلئے جو کچھ ان چار مہینوں میں ہوا ہے ویسا تو گزشتہ چالیس سالوں میں بھی نہیں ہوا تھا۔ ان خیالات کا اظہار بھارتی مصنف اور برطانوی یونیورسٹی کے پروفیسر امیت چودھری نے اپنے ایک مضمون میں کیا جسے دی گارڈین نے شائع کیا ہے ۔ذاتی ایجنڈے کے تحت آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر دیا گیا جسکے بعد خدشہ ہے کہ قوم کے بیشتر فیصلے اسی ذہنیت کیساتھ کئے جا سکتے ہیں۔اگر پوچھا جائے کہ مودی سرکار کا حالیہ بڑا کارنامہ کونسا ہے تو بیشتر لوگ کہیں گے کہ سب سے بڑا کارنامہ ملک میں خوف کی فضا پیدا کرنا ہے ،اختلاف کی ہر آواز کو دبا دیا گیا ہے ۔ عدلیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر ادارے حکومت کے ’’ماتحت‘‘ ہیں جبکہ اختلاف کرنیوالے سب سے بڑے ’’قانون شکن‘‘ ہیں۔اختلاف رائے سے پاک ملک ہی ایک ’’نارمل ملک‘‘ ہے اور حکمرانوں کیلئے سیاسی مزاحمت سے خالی فضا ہی ’’اچھا وقت ‘‘ہے ۔کیا یہی وہ ’’اچھے دن‘‘ ہیں جن کے متعلق مودی انتخابی ریلیوں میں بتایا کرتے تھے ؟ حکومت کے پاس نیشنل رجسٹر آف سیٹیزن ہے جسکے تحت لاکھوں لوگوں کی شہریت ختم کر دی گئی ہے ، لوگوں کا انکی جڑوں سے تعلق ختم کر دیا گیا، غیر قانونی تارکین وطن کو مسلمان بنا دیا گیا اور پھر مسلمان کو غیر ملکی بنا دیا گیا۔یہ افسوسناک ہے کہ ہم اپنے ماضی سے اقدار اور تنوع کی اہمیت نہیں سیکھ سکے ۔