سرینگر (نیوزایجنسیاں )مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 20 روز ہوگئے ، کشمیری نوجوانوں نے سر پر کفن باندھ لیے ۔ تمام تر پابندیوں کے باوجود سرینگرکے علاقے صورہ میں بھارتی فوج کیخلاف ایک بار پھر مظاہرہ ہوا۔ خواتین بھی احتجاج میں شریک ہوئیں۔ بھارتی فوج کی پیلٹ گن سے فائرنگ سے درجنوں کشمیری زخمی ہوگئے ۔ ظالم بھارتی فوج نے گھروں میں محصور لوگوں کو بھی نہ چھوڑا، گھروں میں آنسو گیس کے شیل فائر کئے جس سے ایک کشمیری خاتون شہید ہوگئی۔ دریں اثناء مقبوضہ وادی میں مسلسل محاصرے ، کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے ڈاک کا نظام بھی بری طرح سے متاثر ہے ۔سرینگر ، جموں اور لداخ کے ڈاکخانے ہزاروں خطوط اور دیگر ترسیلی اشیاء سے بھرے پڑے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں تقریباً 77ڈاکخانے ہیں جن میں سے چند ایک کام کر رہے ہیں۔ قابض انتظامیہ نے ڈاکخانے سمیت تمام محکموں کے ملازمین کو تیرہ اگست کو نوکریوں پر حاضر ہونے کے احکامات دیئے تھے لیکن کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کے تمام سرکاری و نجی دفاتر مسلسل ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ ، ٹیلیفون اور مواصلات کے دیگر ذرائع بھی پانچ اگست سے معطل ہیں جس کی وجہ سے کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہے ۔ بھارت اور بیرون ملک رہنے والے کشمیری مقبوضہ وادی میں محاصرے میں پھنسے اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کیلئے خطوط بھیج رہے ہیں لیکن ڈاک کے نظام کی بندش کی باعث وہ ان تک نہیں پہنچ رہے ۔