مولانا عبدالر حمٰن جامی رحمۃ اﷲ علیہ عالم اسلام کی مقتدر شخصیات میں سے ایک اہم شخصیت ہیں، جو مورخ، سیرت نگار، سوانح نگار، نثرنگار اور شاعر کے علاوہ ایک عظیم صوفی بزرگ ہوئے ہیں۔ آپ کاشمار صف اوّل کے صوفیاء کرام میں ہوتا ہے ۔ تاریخ اور تصوف پر آپ کاکام رہتی دنیا تک یادگار رہے گا۔ علامہ جامی رحمۃ اﷲ علیہ نے صوفیاء کرام کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے بزرگان دین سے روحانی استفادہ کے لیے سفر و سیاحت کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور یوں دامن ِمراد میں روحانیت بھرتے گئے ۔ مولانا عبدالر حمٰن جامی رحمۃ اﷲ علیہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔ آپ کا یہ پہلو آپ کو ممتاز کرتا ہے ، جس کی وجہ سے شرق وغرب آپ کا شہرہ ہے ۔ آپ نے جس و الہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس کا تمام فارسی ادب میں جواب نہیں ملتا۔ وہ وادی بطحا میں پہنچ کر مدینہ، خاک ِمدینہ، خارِمدینہ، حتیٰ کہ سگِ مدینہ کو بھی اپنے دل کے قریب پاتے ہیں۔ وہ سرزمین نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو جانے والے قافلوں کو سلام کرتے ہیں۔ قافلۂ حجاز کے اونٹوں کے ساربان ان کے پیغام رساں ہیں، نسیمِ بہاری کو فریاد پہنچانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ۱۔ نسیما جانب بطحا گزرکن ز احوالم محمد راخبر کن پھر فرماتے ہیں: ۲۔ بانگ وصل از قافلہ برخاست خیزاے سارباں! زخم بنہ برراحلہ آہنگ رحلت کن رواں ۳۔ یا رب مدینہ است ایں حرم کز خاکش آید بوئے جا یا ساحت باغ ارم یا عرصہء روض الجناں وہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوب کر نعت لکھتے تھے اور وہ اس فن میں منفرد ہی نہ تھے، امام تھے ۔ دیدارِ روضہ ٔ اطہر کیلئے جس جذب و جنوں کا حصہ انہیں ملا تھا، وہ دوسرے شاعروں کے ہاں کم پایا جاتا ہے ۔ وہ کوئے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں سر کے بل جاتے ہیں، دیدہ و دل فر ش راہ کرتے ہیں، پلکوں سے جاروب کشی کرتے ہیں اور پھر فریاد، التجا، الحاح اور گریہ و فغاں کی جو رقت ان کے ہاں پائی جاتی ہے ، اس سے رحمت دو عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی گھٹائیں جھوم جھوم جاتی ہیں۔ وہ سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے دامن میں لپٹ کر اپنی بات کہتے ہیں: ادیم طائفی نعلین پاکن شراک ازرشتہ جانہائے ماکن جامی رحمۃ اﷲ علیہ جس جذبہ و مستی میں بارگاہ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوتے ہیں، اس میں جنید و بایزید رحمۃ اﷲ علیہما کا ادب بھی ہے ، اور بلال حبشی رضی اﷲ عنہ کی رقت و الہیّت بھی۔ (حالات جامی ،مقدمہ شواہد النبوۃ، صفحہ 14) علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں: حضرت شاہ محمد ہاشم رحمۃ اﷲ علیہ ’’جامع الشواہد‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ماہ ربیع الاوّل کی ایک پرکیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت مولانا عبدالرحمنٰ جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب حبیب کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد ونعت کا سلسلہ جاری ہے ۔ حضرت جامی رحمۃ اﷲ علیہ بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکار ابد قرا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم منظورفرماتے ہیں۔ جب آنکھ کھلی توجامی رحمۃ اﷲ علیہ پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی ،عالم جذب میں فرمانے لگے ’’وہ نورانی رخ ِزیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے ، جب جبینِ مقدس سے ، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراج منیر کی تجلیاں نمودار ہونی لگیں‘‘۔ اسکے بعد جب جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے ۔ نسیما جانب بطحا گزر کن زِاحوالم محمد را خبر کن ببر ایں جان مشتاقم در آنجا فدائے روضۂ خیر البشر کن توئی سلطان عالم یا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم زروئے لطف سوئے من نظر کن مشرف گرچہ شد جامی زلطفش خدایا ایں کرم بار دگر کن جامی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔ (اغثنی یا رسول اﷲ ،صفحہ 17,18) حضرت مولانا عبدالرحمنٰ جامی رحمۃ اﷲ علیہ وہ عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کو بارگاہ ِرسالت میں شرف قبولیت حاصل ہے ۔ دیوبند مکتب ِفکر کے مولانا ذکریا لکھتے ہیں: ’’مولانا جامی نور اﷲ مرقدہ، یہ نعت لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ ٔ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر اس نظم کو پڑھیں گے ۔ جب حج کے بعد مدینہ منورہ کی حاضری کاارادہ کیا تو امیرِ مکہ نے خواب میں حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی، حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں انکو ارشاد فرمایا کہ اس کو (جامی کو) مدینہ نہ آنے دیں۔ امیرِ مکہ نے ممانعت کر دی مگر ان پر جذب و شو ق ا س قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دئیے ۔ امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :وہ آ رہا ہے ، اسکو یہاں نہ آنے دو۔ امیر مکہ نے آدمی دوڑائے اور انکو راستہ سے پکڑوا کر بلایا۔ ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا۔ اس پر امیر مکہ کو تیسری مرتبہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی، حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ کوئی مجرم نہیں ہے ، اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کیلئے ہاتھ نکلے گا جس میں فتنہ ہو گا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز و اکرام کیا گیا‘‘۔ (تبلیغی نصاب فضائل درود شریف صفحہ 131) حضرت عبدالر حمٰن جامی رحمۃ اﷲ علیہ کی نعت کے چند اشعار: زمہجوری بر آمد جانِ عالم ترحم یا نبی اﷲ ترحم ترجمہ: آپکے فراق سے کائنات ِعالم کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے ۔ اے رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم !نگاہ کرم فرمائیے ، اے ختم المرسلین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم! رحم فرمائیے ۔ نہ آخر رحمۃ اللعالمینی زمحروماں چرا غافل نشینی ترجمہ: آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم یقینارحمت العالمین ہیں، ہم خرماں نصیبوں اور ناکامانِ قسمت سے آپ کیسے تغافل فرما سکتے ہیں۔ زخاک اے لالہ سیراب برخیز چو نرگس خواب چند از خواب برخیز ترجمہ: اے لالہ خوش رنگ اپنی شادابی و سیرابی سے عالم کو مستفید فرمائیے اور خواب نرگس سے بیدار ہو کر ہم محتاجان ہدایت کے قلوب کو منور فرمائیے ۔ بروں آور سر از بردیمانی کہ روئے تست صبح زندگانی ترجمہ: اپنے سرمبارک کو یمنی چادروں کے کفن سے باہر نکالئے کیونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کاروئے انور صبح زندگانی ہے ۔ (تبلیغی نصاب، فضائل درود شریف ،صفحہ 132,134,135) حضرت مولانا عبدالر حمٰن جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا نعتیہ کلام اگرچہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن نثر میں بھی انہوں نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی جامع کتاب ’’شواہدۃ النبوۃ‘‘ ہے ، جس کا ہر لفظ، ہر حرف اور ہر جملہ آپکے عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عکاس ہے ۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جائے ، چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکر ِخیر بھی دلنشیں انداز میں کیا گیا ہے ۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے ۔آپ نے 898ھ کو وصال فرمایااور بوقت وصال آپ کی عمر مبارک 80 برس تھی۔ آپ کا مزار ہرات شہر میں واقع ہے ۔