مکرمی! رایا انمول کم دورانیہ کی فصل ہے اور دیگر روغندار فصلات کے مقابلہ میں زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ توریا کی نسبت رایا انمول کی پیداوار تقریباََ دُوگنی ہے کیونکہ اس کا تنا مضبوط ہونے کی وجہ سے زیادہ کھاد برداشت کرسکتا ہے ۔ رایا انمول کی فصل تقریباً 115 سے 125 دن میں پک کر تیا ر ہوجاتی ہے۔ رایا انمول کو زر پاشی کے عمل کے لیے حشرات کی ضرورت نہیں ہوتی۔رایا انمول کی فصل پر نقصان رساں کیڑوں اور بیماریوں کا حملہ بھی کم ہوتا ہے۔ ستمبر کاشتہ کماد میں کماد کی دولائنوں کے درمیان رایا انمول کی مخلوط کاشت بھی اچھے نتائج دیتی ہے ۔رایا انمول پنجاب کے تمام آبپاش علاقوں میں کامیابی سے کاشت کی جاسکتی ہے۔رایا انمول کا موزوں وقت کاشت اگست کے آخری ہفتہ سے وسط ستمبر تک ہے۔اس فصل کے لیے شرح بیج1.5سے 2کلوگرام فی ایکڑ رکھنی چاہیے ۔دو سے تین دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو اچھی طرح باریک کریں۔ زمین کا ہموار ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر کھیت ناہموار ہو تو پانی کھڑا ہو جانے کے بعد اُگے ہوئے پودے مر سکتے ہیں۔بہتر اگائو کیلئے اگر وافر پانی میسر ہو تو دوہری رائونی کریں اس سے جڑی بوٹیاں بھی تلف ہوجاتی ہیں۔رایا انمول کو تروتر میں بذریعہ پور یا ڈرل 1 سے 1.5انچ گہرائی پر کاشت کریں۔ احتیاط کریںکہ بیج زیادہ گہرا نہ جائے ورنہ روئیدگی کم ہو جائیگی۔ سپرے کریں۔مولی بگ پتوں سے رس چوسنے والا کیڑا ہے ۔حملہ کی صورت میں کاربوسلفان 20 ای سی بحساب 500ملی لٹر فی ایکڑ100 سے 120لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔اگرکاشتکار بیماری یا کیڑے کا حملہ دیکھیں تو محکمہ زراعت کے مقامی عملے کے مشورہ سے زہروں کا سپرے کریں۔ (نوید کاہلوں ‘ملتان )