اس کے دل میں نظم بھی تھی اور تھا اک افسانہ بھی سامنے اس کے شمع تھی روشن‘ جلا ہوا پروانہ بھی جینے مرنے کے بارے میں سوچیں لیکن اتنا کیوں سب ہے اپنی حد سے باہر آنا بھی اور جانا بھی ذوق نے بھی کہہ دیا اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے۔ اس احساس کو ہر کسی نے محسوس کیا۔ موت کا ایک دن معین ہے۔ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔ اس نکتہ چینی و فکر آفریں نے یہ بھی کہا۔ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا۔ نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا۔ یہ سارا اظہار تو اصل میں اس خوف کا اظہار ہے جس سے دل بھرا رہتا ہے یا جس سے من ڈرا رہتا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ زاد راہ کسی کے پاس نہیں ہے جس کے پاس ہے وہ ولی ہے۔ برسبیل تذکرہ ہی سہی ایک دن حمید حسین صاحب نے کہا کہ ولی تین قسم کے ہوتے ہیں پہلا جو اظہار کرتا ہے ۔ دوسرا جو ہوتا بھی ہے اور اظہار بھی کرتا ہے۔ تیسرا وہ جو اس بات سے بھی بے خبر ہوتا ہے کہ وہ ہے اور اس کو اظہار کی بھی خواہش نہیں: منزلیں ان کا مقدر کہ طلب ہو جن کو بے طلب لوگ تو منزل سے گزر جاتے ہیں آج تو آپ کو یہ میرا اداس اداس سا کالم پڑھنا پڑے گا۔ لکھنا تو کچھ اور تھا بس علی الصبح ایک پوسٹ پر نظر پڑی تو میں دم بخود ہی رہ گیا۔ قمر رضا شہزاد بھی صرف اتنا ہی لکھ سکا، اللہ اکبر۔فرتاش سید بھی چھوڑ گئے۔ میں دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ آنکھوں کے سامنے فرتاش سید کا سراپا تھا۔ وہ کس قدر جوش اور جذبے سے بھرا ہوا شخص تھا اور بات بات پر قہقہہ بار ہو جانے والا۔ بہت بھر پور شاعر جون ایلیا کا خاص شاگرد۔ قطر میں مقیم رہا کہ وہاں تدریس سے منسلک تھا۔ پھر یہاں بیکن ہائوس آ گیا۔ ڈاکٹریٹ اس نے کر لی تھی لڈن سے اس کا تعلق تھا بہت پیار اور خود دار۔اس کا ایک شعر دیکھیے: دور باطل میں حق پرستوں کی بات رہتی ہے سر نہیں رہتے ایک شعر اور یاد آ گیا: کل بزرگوں کے اثاثے کی جو تقسیم ہوئی مال و زر چھوڑ دیا میں نے قناعت کر لی اس کے ساتھ تیس پینتیس سال کی دوستی تھی۔ جب آتا تو فون کرتا۔ میرے پروگرام غزل مشاعرہ میں وہ دو تین مرتبہ آیا اور اپنے کلام پر خوب داد پائی۔ اسے آپ مشاعرہ کے ایک نہایت کامیاب شاعر کے طور پر کہہ سکتے ہیں۔ مشاعرہ پڑھنا بھی ایک فن ہے۔ وہ تو قطر کی تنظیم کا عہدہ دار بھی تھا اور اس نے درجنوں عالمی مشاعرے پڑھے۔ مجھے بھی قطر بلایا تو میں کسی مجبوری کے تحت نہ جا سکا تو ناراض ہوا میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر شاعروں اور ادیبوں کی پوسٹیں بارش کی طرح گر رہی ہیں۔ سچ میں وہ تھا ہی ایسا پیارا اور ہنس مکھ۔ اپنے مضمون اردو میں بھی وہ دسترس رکھتا تھا۔ اتنا مصروف ہونے کے باوجود اس نے سلیبس پر بھی کتابیں لکھیں ۔ شعر وہ کمال کے کہتا تھا: تم بھی تھے اپنے حسن پر نازاں اور کچھ ہم بھی آن بان میں تھے ورنہ ہم ایک جان ہو جاتے ہائے کچھ لوگ درمیان میں تھے اس کی ایک کتاب’’ جدید اردو غزل کی شعریات، نمایاں خدوخال‘‘ بھی ہے جس کی تقریب پذیرائی شعبہ اردو جی سی یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ پت جھڑ کا موسم تو نہیں مگر اب کے بہار میں بھی خزاں کے آثار نظر آتے ہیں۔ کوئی کیا کر سکتا ہے مشیت ایزدی کے سامنے۔کبھی جمال احسانی یاد آنے لگتا ہے کہ کراچی میں اس کے پاس ہم کھڑے تھے اور وہ کہہ رہا تھا یار! چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے تو صاحبو!یہ دنیا ایسے ہی چلتی رہے گی بس رہے نام اللہ کا۔ ابھی میں کالم لکھ رہا تھا کہ چھوٹے بھائی ثناء اللہ شاہ کا فون آ گیا کہ ہمارے تاج انصاری بھی چل بسے۔ ستر کے پیٹے میںہونگے یا اس سے بھی زیادہ۔ وہ چونکہ تن تنہا تھے اور اردو بازار میں وہ روزانہ کی بنیاد پر آتے دوستوں سے ملتے۔اتنے ہمدرد اور پرخلوص کہ بس کچھ نہ پوچھئے۔ ایک زمانے میں انہوں نے ایک فلم بھی بنائی اور کنگال ہو گئے۔ وہ بچوں کی نظمیں لکھتے ، ان کے بغیر تو ہم بہت کمی محسوس کرتے تھے ،وہ آتے تو محفل جمتی۔ بڑھ چڑھ کر دوستوں کی خدمت بجا لاتے اور اس میں ان کا پیار شامل ہوتا۔ خالد علیم صاحب کے ساتھ ان کا بہت تعلق تھا یہ بہت اچھا ہوا کہ ان کی بچوں کی نظمیں رابعہ بکس والوں نے شائع کر د یں اور پھر انہیں اس کتاب پر سرکاری طور پر انعام بھی ملا ۔وہ بڑی بے نیازی سے دوستوں پر پیسہ بھی خرچ کرتے رہتے۔اللہ پاک انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔آمین ۔تاج انصاری صاحب واقعتاً ادبی دنیا کے ایک کردار تھے کہ ان کا اوڑھنا بچھونا ادب تھا اور ادیبوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا تھا۔ بے لوث بے ضرر اور نثار ہونے والا کردار۔ وہ محفلیں کہ پروفیسر جمیل احمد عدیل ‘ سرور ارمان‘ خالد علیم‘ عمران شناور اور کئی دوسرے دوست یقیناً سب آج بہت اداس ہونگے: ہم ستاروں کی طرح جاگے تھے اس لئے تابہ سحر ٹوٹ گئے فرتاش سید ایک حوالے سے پاکستان کا قطر میں نمائندہ بھی تھا۔ قطر میں اردو ادب کی ایک دنیا آباد ہے کہ وہاں نہ صرف عالمی مشاعروں کی روایت ہے بلکہ برصغیر کے نامور شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ ایک نشست بھی رکھی جاتی ہے جسے اس کا جشن کہا جاتا ہے۔ وہاں جشن احمد ندیم قاسمی سے لے کر جون ایلیا کے جشن تک بے شمار پروگرام ہوئے۔ فرتاش اکثر محافل کا روح رواں تھا۔ بہت توانا اور متحرک ہمارے آصف شفیع بھی وہیں مقیم ہیں اور تو اور بھارت کے مسلمان ادیب بھی وہاں رونق لگائے رکھتے ہیں جو بھی اردو کی خدمت ہو رہی ہے بھارتی شاعروں اور ادیبوں سے میں وہاں ملا تھا ان کے شکوے اور شکایتیں بھی سنیں وہ سب دہرے احساس میں زندہ ہیں کہ وہ کہتے ہوئے جھجکتے ہیں اور انہیں پاکستان سے محبت ہے۔ وہ اپنے مذہب سے بڑی شدت کے ساتھ وابستہ ہیں خیر بات لمبی ہو جائے گی آخر میں فرتاش کی غزل کے چند اشعار: رہ زیست میں جو سراب تھے مجھے کھا گئے وہ جو ہجرتوں کے عذاب تھے مجھے کھا گئے سرگفتگو جو سوال تھے وہ کمال تھے وہ جو میرے تشنہ جواب تھے مجھے کھا گئے وہ جو اک گھڑا مری آس تھا مرے پاس تھا وہ جو نفرتوں کے چناب تھے مجھے کھا گئے