کراچی(کامرس رپورٹر) آل پاکستان سیرامکس ٹائلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (APCTMA) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹائل صنعت کو نقصانات سے بچانے کے لیے سیرامکس ٹائلز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول مجریہ 1990ئسے خارج کیا جائے ۔ حکومت نے وفاقی فنانس ایکٹ 2019ء کے ذریعے سیرامکس ٹائلز کو تھرڈ شیڈول میں شامل کیا ہے ۔ ترجمان، اے پی سی ٹی ایم اے ، نے جاری بیان میں کہا کہ ایسے کئی اسباب ہیں جن کے ہوتے ہوئے سیرامکس ٹائلز کو تھرڈ شیڈول سے خارج کیا جانا ضروری ہے ۔ ہر مینوفیکچرر کے لیے یہ ناقابل عمل ہے کہ ہر کارٹنپیٹی پر الگ سے ریٹیل پرائس قیمت کا اندراج کیا جائے کیونکہ مینوفیکچرنگ اور ہر پلانٹ کی نوعیت مختلف ہوتی ہے اس لیے فوری طور پر ٹائل بکس پر قیمت درج نہیں کی جاسکتی ہے ۔ مزید برآں، کم پائیدار اور فوری استعمال کی جانے والی اشیائکے مقابلے میں ٹائل پائیدار اشیائکے زمرے میں آتے ہیں اور ایسی اشیائان کے آنے والے مختلف آرڈز کی ترتیب سے تیار کی جاتی اور فروخت کی جاتی ہیں۔ یہ مختلف علاقوں کے لیے ہوتے ہیں اور ان کی مختلف قیمت اور ٹرانسپورٹ لاگت ہوتی ہے ۔ بعض صورتوں میں یہ طویل مدت تک رکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان کے ڈیزائن اور ساخت متعین ہوتی ہے ۔ ان کا اسٹاک ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک رکھا جاتا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ ٹائلز ہزاروں کی تعداد میں مختلف اقسام اور گریڈ میں تیار کئے جاتے ہیں اس لیے ہر بکس پر قیمت درج کرنا ناممکن ہے ۔ مینوفیکچرر گودام میں کئی برسوں تک ان کو رکھتا ہے ۔ اس لیے پراڈکشن ہال سے باہر آنے کے بعد وزن میں انتہائی بھاری ہونے کی وجہ سے ہر پیکٹ پر الگ الگ قیمتوں کو تبدیل کرنا ناممکن ہے ۔