کورونا میں گور نمنٹ کو تو خوب فائدہ ملا ۔ کورونا کی لاشوں کی خوب تجارت رہی ۔ لیکن اس سارے چکر میں عوام اور تعلیم کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ نبی کریمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا یہاں تک کہ طاعون جیسی بیماری بھی اس طرح نہیں پھیلتی جیسے حکومت نے کرونا پھیلایا ہے ۔ہماری مسجدوں میں نمازی باجماعت نمازیں نہیںپڑھ سکے ۔ بچے تعلیم نہیںحاصل کر سکے ۔ لوگوں کا روزگار بند رہا۔پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی اور اب حکومت نے بجائے ریلیف دینے کی بجائے اتنی مہنگائی کر دی ہے کہ عام آدمی کا دو روٹیاں کھانا مشکل ہو گیا ہے ۔ بجلی مہنگی،سبزیاں مہنگی، گوشت تو غریب بندہ پہلے ہی عید کے عید کھاتا تھا ۔ اس دفعہ قربانی کا جانور اتنا مہنگا تھا کہ عید پہ اسے گوشت نصیب نہیں ہوا۔ تعلیم کا معیار یہ رہا کہ سکول مالکان بلڈنگز کا کرایہ نہ دے سکے اور سکول بند ہونے سے کئی بچے تعلیم اور اساتذہ اکرام نوکریوں سے محروم ہوگئے حکومت نے پرائیویٹ اداروں اور ان کے ملازمین کے لئے کچھ نہ کیا بلکہ امتحان پاس کرنے سے نالائق انجنئیر ڈاکٹر وغیرہ پروان چڑھیں گے۔ ہونا تو یہ چاہے تھا کہ کرونا کی حفاظتی تدابیر کے ساتھ ان کے پیپرز لئے جاتے تاکہ ہماری تعلیم کا حرج نہ ہوتا لیکن کیونکہ تبدیلی سرکار کے پاس اتنی نوکریاں نہیں اس لیے نہ لوگ پڑھے لکھے ہوں گے نہ نوکریاں مانگیں گے کہ پالیسی پہ چلنے والی اس حکومت میں لوگوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔ آٹا مہنگا روٹی نان مہنگا ہم سمجھے تھے کہ فلاحی معاشرہ مدینہ کی ریاست بنے گی جہاں خچر کے ٹھوکر لگنے اور بکری کے پیاسے رہنے پر صاحبِ اقتدار جواب دہ ہوں گے ۔ پر یہ تو چوروں کی حکومت سے بدتر نکلی اس دورمیں غریب آدمی سکون سے دو روٹیاں کھا کے سوتا تھا ۔ (ریحانہ سعیدہ لاہور)