لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)گروپ ایڈیٹر 92نیوز اور سینئر تجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے کہا ہے کہ ویڈیوسیکنڈل میں یہ چیز سامنے نہیں آئی کہ اس ویڈیو کے پیچھے کسی ایجنسی یا حکومتی ادارے کا دبائو تھا، میرانہیں خیا ل کہ نوازشریف کو کوئی بڑا ریلیف مل سکتا ہے ۔ پروگرام کراس ٹاک میں میزبان اسداللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوازشریف ایک دوسرے کیس میں بھی سزا یافتہ ہیں ان کے خلاف ارشد ملک والا کیس نہیں ہے انہیں پھر محمد بشیر کی بھی ویڈیولانا پڑے گی۔انہوں نے کہاکہ تکبر، رعونیت ،پاگل پن اور تنگ نظری کو ملایا جائے تو ایک مودی بنتاہے اس نے یہ خیال کہ کشمیری نہتے ہیں اور پاکستان اپنے مسائل میں پھنسا ہوا ہے میرے اقدام کا دوچار روز شورمچے گا اورکچھ نہیں ہوگا لیکن جو عالمی میڈیا میں ری ایکشن سامنے آیا ہے اس سے دنیا کو ڈر لگتا ہے کہ بھارتی اقدام سے کوئی بھی بڑا خطرہ ہوسکتاہے ۔تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ویڈیو سیکنڈل میں نیب ایک فریق ہے وہ جانے اور اس کا کا م جانے ۔میرا خیال ہے کہ اب جو کیس سناجائے گا اس میں بھی نوازشریف کو پہلے والی ہی سزا ہوگی۔ ن لیگ بسم اللہ کرے اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے پہلی اپیل نکلوائے اور ٹھوس شواہد دے ۔ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر خوب اجاگر کیا ہے ۔جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا ہے کہ ویڈیو سیکنڈل میں جج کے کنڈکٹ اور نوازشریف کا کیس الگ الگ ہیں سپریم کورٹ نے جج کے کنڈکٹ کو دیکھا جس کی وجہ سے انہیں معطل کردیا، سپریم کورٹ نے درست کہا کہ اب نوازشریف کی سزا کا معاملہ لاہورہائیکورٹ کے سپردہے جو اس پر فیصلہ کرے ۔ جج کے حوالے سے جو سپریم کورٹ نے کہاہے کہ اس سے نوازشریف کو کافی فائدہ ہوگا۔ناصر بٹ کو بیان ویڈیو کے ذریعے لیا جاسکتا ہے لیکن یہاں ناصر بٹ کو کہناپڑے گا کہ یہ ویڈیو انہوں نے بنائی اوراس کے تمام لوازمات کو پیش کرسکتا ہوں۔ ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ہمارا پہلے روز سے یہ موقف تھاکہ نوازشریف کو دی گئی سزا غلط ہے جو آج سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد درست ثابت ہوا۔ ہماری لیگل ٹیم اس حوالے سے مشاورت کررہی ہے ، ہائیکورٹ میں ویڈیو کو کون لے کرجائے گا ا س پر مشاورت ہورہی ہے ۔