یہ چھ عدد شعری مجموعوں اور سات عدد کتابوں کے مصنف، شاعر دلنواز اور یار طرح دار حسن عباس رضا کی کسر نفسی ہے کہ وہ مجھے اپنا دوست کہے، ورنہ مجھ بے ہنر میں تو کوئی عیب ایسا نہیں جو اسے بھاجائے۔ ہم میں سوائے اس کے کوئی قدر مشترک نہیں کہ ابھی زندہ ہیں۔کوئی دن جائے گا جب یہ قدر مشترک ایک اور قدر مشترک میں ڈھل جائے گی کہ ہم نہ ہونگے۔کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے۔حسن عباس رضا کی دلکش شاعری تو اسے زندہ رکھے گی،مجھ دل جو بے ہنر کا کون نام لیوا ہوگا۔ شاید یہی دوستی کام آجائے جس کا حسن ہی یہ تفاوت ہے۔ عمر، علم اور ہنر کا تفاوت ۔ ایک حسن بے ترتیب جس میں حسن اس کا ہے اور ساری بے ترتیبی میری۔اپنی کم مائیگی اور حسن عباس رضا کی محبت اور بڑے پن کا احساس کچھ اور بھی سوا ہوا جب اس نے مجھے اپنی کتاب میرے مہرباں میرے چارہ گر ارسال کی۔ اس کے مہربانوں اور چارہ گروں کی فہرست بڑے ناموں پہ مشتمل ہے۔ فیض صاحب، فراز، میڈم نورجہاں،احمد ندیم قاسمی،امرتا پریتم،گلزار،پروین شاکر ، احمد داود اور کشور ناہید۔ یقینا وہ فہرست الگ ہوگی جو اس نے اچھے مال کی طرح الگ باندھ رکھی ہے۔شیر ازی نے کہا تھا۔ بعد از وفات تربت ما در زمین مجو۔در سینہ ہائے مردم عارف مزار ما۔یہ عارفوں کا ہی مقام و حوصلہ ہے کہ ان کی تربت عارفوں کے دل میں تلاش کی جائے۔دوستوں کے دلوں میں تو ان لکھی فہرستیں ہوا کرتی ہیں۔کبھی وہ انہیں مکتوب اور مطبوع کرلیتے ہیں اور اکثر دل میں ہی رکھ لیتے ہیں۔مجھ ایسے کم علم کا مقام اگر یہ بھی ہو تو غنیمت ہے،جس کے تخلیقی سوتے ،عالمی سیاسیات اور مقامی فسادیات نے خشک کرکے رکھ دیئے ہیں۔حسن عباس رضا کی کتاب جو درحقیقت یادداشتوں پہ مشتمل ہے ، حسن نے اپنے مخصوص ہلکے پھلکے انداز سے لکھی ہے ۔بہت سے ایسے واقعات جو کوئی اور لکھتا تو کتنے ہی کلی پھندنے لگاتا، حسن نے اسی سہولت سے لکھ ڈالے ہیں، جس سہولت اور روانی سے وہ شاعری کرتا ہے۔شاعری کی روانی جہاں اس کے فن پہ دلیل ہے وہیں اس کی عاشقانہ مجبوری بھی ہے۔پے درپے عشق اسے سنبھلنے کا موقع دیتے ہیں نہ اس کی شاعری کو۔کتاب میں لیکن جن یکتائے روزگار کا تذکرہ ہے،انہیں نثر طولانی سے اس طور باندھا جاسکتا تھا کہ کئی پہلو جو تشنہ رہ گئے اور یہ حسن ہی بہتر جانتا ہوگا کہ وہ کون سے پہلو تھے،سیراب ہوسکتے تھے البتہ کتاب کی ضخامت میں اضافہ ہوجاتااور شاید وہ جوش کی یادوں کی بارات سے کاندھا بھڑانے لگتی۔اس مشابہت کی وجہ یقینا محض ضخامت نہ ہوتی۔ فراز صاحب کے خاکے میں اس کمی کا شدت سے احساس ہوا۔ شاعر بے بدل فراز جنہوں نے اردو شاعری کے نئے باب کا صفحہ اس شدت سے پلٹا کہ بقول مرشدی یوسفی آواز دور دور تک سنائی دی، حسن ان سے اپنی قربت کے باعث بہت کچھ لکھ سکتا تھا۔حسن اور فراز میں بڑی محبت تھی، اس سے بھی ارفع بات یہ تھی کہ فراز کو حسن پہ حد درجہ بھروسہ تھا ۔یعنی کہ اس قدر کہ جب انہوں نے اپنی جائیداد کے کاغذات اور چند تصویر بتاں، چند حسینوں کے خطوط حسن کو یہ کہہ کر حوالے کئے کہ انہیں برخوردار شبلی کے حوالے کردینا تو درحقیقت انہیں برخوردار سے زیادہ حسن پہ اعتماد تھا کہ وہ صاف ڈنڈی مار جائے گا اور صرف جائیداد کے کاغذات ہی شبلی کے حوالے کرے گا۔فراز صاحب کے اسی باب کی تشنگی تھی جسے غالباً ہوا دینے کے لئے حسن نے پردہ نشینوں کے نام صیغہ راز میں رکھے اور صبح دم مجھے اسے فون کھڑکانے پہ مجبور کیا کہ یار ذرا فلاں مخفف والی خاتون کا قصہ تو سناو۔ یہ سہولت اگر اس کے ہر قاری کو حاصل ہے تو بہت خوب اور لذیذ ہے۔ تفنن برطرف،فراز صاحب کا ادبی مقام ان تمام باتوں سے بالا تر ہے۔ آج تو ہر نوجوان و نوآموز شاعر اتنی محبوبائیں رکھنے کا حق رکھتا ہے، جو بقول میڈم نورجہاں نہ نہ کرتے بھی گیارہ ہوجائیں تو وہ تو فراز تھے، جس کے عاشقا ن زار ،ان کے تیر نیم کش کی لذت سے نیم جان رہتے لیکن اسے کھینچ کر نکالنے کا حوصلہ کسی میں نہ تھا۔ پروین شاکر جیسی بے دھڑک اور اردو ادب میں خالص نسائی شاعری کی بنیاد رکھنے والی آہو چشم و خوش کلام میں بھی نہیں۔ اس کتاب کی خوشہ چینی کے دوران یہ کھلا کہ حسن میں اسلوب اور ڈکشن کو حسب مراتب استعمال کرنے کی بڑی اعلی خوبی موجود ہے جس کا اظہار اس نے فیض ، فراز ، پروین اور گلزار کے خاکوں میں ان ہی کے انداز میں اپنی نذر کردہ شاعری میں کیا ہے، یعنی آپ فیض کو نذ ر کیا گیا حسن عباس رضا کا کلام بالکل فیض کے رنگ میں پڑھ سکتے ہیں ۔ یہی صورتحال پروین ،فرازاور گلزار کے خاکوں میں بھی دیکھنے کو ملے گی۔ یہ ایک خوشگوار اور حیران کن صلاحیت ہے جس کا اظہار حسن عباس رضا نے اس خوبی سے کیا ہے کہ اس پہ سرقے یا توارد کا گمان نہیں ہوتا بلکہ ایک محبت کرنے والے باکمال شاعر کے کمال فن کا اظہار ہوتا ہے۔حسن عباس رضا نے فیض صاحب، فراز اور دیگر کے حوالے سے مزاحمتی ادب کی تخلیق اور اس کی پاداش میں قید و بند کا خصوصی تذکرہ کیا ہے بلکہ کہیں کہیں تو یہی اصل موضوع معلوم ہوتا ہے۔ شاید اس لئے کہ صعوبتوں میں ہی چارہ گروں اور مہربانوں کے جوہر کھلتے ہیں۔عمدہ بات یہ ہے کہ حسن نے ان صعوبتوں کا تذکرہ کسی تلخی یا زہرخند ی سے نہیں بلکہ بڑے فخرو انبساط کے ساتھ کیا ہے گویا وہ شاعری نہیں مزاحمت کو اپنا اصل ہنر جانتا ہو۔یہ یقینا فیض صاحب کی صحبت دلدار کا اثر رہا ہوگا جنہوں نے زندان اور دار کو ایسی خوشگواری عطا کی کہ انسان کا دل بے اختیار سڑک پہ ٹائر جلا کر داخل زنداں اور بعد ازاں اور اذان فجر، تختہ دار پہ جھولنے کو جی چاہے۔ستون دار پہ سروں کے چراغ رکھنے اور زندان کی ایک شام میں مہرباں چاندنی کے دست جمیل جیسی امیجری فیض ہی کے ذہن رسا کی تخلیق ہوسکتی ہے۔ مجھے بہرحال حسن پہ رشک آیا ہے کہ اسے مزاحمتی ادب کے سرخیلوں کی نہ صرف صحبت میسر آئی بلکہ وہ ہر قدم پہ ان کا ہمرکاب اور یار باوفا ثابت ہوا۔ یہ بھی ایک المیہ ہی ہے کہ ایسی دلنواز شاعری مارشل لا ئی قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے والوں کے ہی حصے میں آئی ورنہ جمہوری آمریت کے دور میں بھی اس کے اسباب کچھ کم نہ تھے۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ کم سے کم اس دور میں نظریاتی ادب جیسی کوئی شے موجود تو تھی۔ ہماری نسل تک نظریے کی میت ہی پہنچی، وراثت کے کاغذات کسی کی جعلی وصیت کی طرح کھوکھلے نکلے۔حسن نے اپنے چارہ گروں اور مہربانوں کی اس فہرست کا اختتام قابل فہم طور پہ منصور حلاج پہ کیا ہے۔ اب نہ نعرہ اناالحق رہا نہ تختہ دار کو چومنے والے دیوانے۔