واشنگٹن ( بیورو رپورٹ،نیٹ نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا جزوی ’شٹ ڈاؤن‘ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے لیے فنڈز کی فراہمی کا انکا مطالبہ مان نہیں لیا جاتا۔ امریکی وفاقی حکومت ہفتے کے روز سے جزوی شٹ ڈاؤن کا شکار ہے کیونکہ جمعے کے روز حکومتی اخراجات کے لیے امریکی کانگریس میں بجٹ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔ شٹ ڈاؤن کی بدولت کئی حکومتی ادارے بند ہیں اور محض وہی اہلکار کام کر رہے ہیں جو حکومتی نظام چلانے کے لیے ضروری ہیں۔جبکہ صدر ٹرمپ کرسمس کی چھٹیاں فلوریڈا میں گزارنا چاہتے تھے لیکن شٹ ڈاؤن اور کانگریس میں معاملات حل نہ ہونے کی وجہ سے وہ مجبوراً واشنگٹن میں ہی ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں جزوی بندش سے تقریباً آٹھ لاکھ سرکاری ملازمین متاثر ہوئے ہیں جبکہ چار لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ کے اس وقت اہم اداروں پر ڈیوٹی دے رہے ہیں اور چار لاکھ ملازمین جو گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ سینٹر چک شومر اور کانگریس سپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ گرتی جا رہی ہے ، ٹرمپ شٹ ڈاؤن کے ذمہ دار ہیں ۔