ہمارے ایک بزرگ دوست نے جب قرآنِ پاک کا منظوم پنجابی ترجمہ کیا، تو تفسیر کے ہر صفحہ پر اپنا طویل اسمِ گرامی" مع الا لقاب" ثبت فرمایا ، وجہ اس کی یہ بیان ہوئی ، کہ جب تک از خود اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھو، دنیا کیسے سمجھے گی ، اور دوسری توجیح یہ سامنے آئی کہ ہر آدمی مرکر بھی ، لوگوں کے ذہنوں اور تاریخ کے اوراق میں زندہ رہنے کا خواہشمند تو ہوتا ہی ہے، اس کا اہتمام زندگی ہی میں کیوں نہ کر لیا جائے، بہرحال یہ ۔۔۔ اور ایسی بہت سی تمنائیں اور آرزووئیں ایسی ہیں کہ جن کے حصار میں ، انسان خود کو ا س حد تک محصور کر لیتا ہے کہ پھر اس کے بوجھ تلے وہ خود، کو بے بس اور محبور بنا لیتا ہے۔ بلا شبہ،اچھی تحریر،عمدہ شعر،خوبصورت خطبہ، زندگی ہی میں نہیں، بعض اوقات حیات ِ فانی کے بعد بھی آپ کو زندگیبلکہجاودانی دے سکتا ہے، اسی لیے صاحبانِ فکرو فن اپنے فن پاروں اور تحقیقی و تخلیقی شہ پاروں سے بڑی محبت کرتے ہیں، کہ یہ ان کی طویل ریاضت اور محنت کا ماحصل اورثمر ہوتا ہے،انگریزی میں ایسی شاہکار تخلیق کو "Brain-Child" کہتے ہیں،مقتدرہ قومی زبان کی قومی لغت کے مطابق" برین چائلڈ" کا مطلب ہے کسی خاص شخص کی تازہ تخلیقی قوت کا کارنامہ، جسے کوئی ادبی شہ پارہ ، خیال یا سُر سنگیت، جس کے لیے کوئی صاحبِ فن" مالکانہ جذبات" رکھتا ہو ۔ ویسے تو ازدواجی زندگی کا ایک اہم اور بنیادی مقصد"بقائے نسل" بھی ہے اور نرینہ اولاد، خاندانی تسلسل اور استحکام کا یقینی ذریعہ ہے ، اگر چہ دادا سے اوپر، اپنے اجداد کا نام کم ہی کسی کو یاد ہوتا ہے،یہ اعزاز تو صرف سادات کے گھرانوں کو حاصل ہے ، جہاں۔" شجرۂ نسب" کی حفاظت، قیمتی متاع سے بھی بڑھ کر، کی جاتی ہے ۔ بہر حال ۔۔"ناموری" کی یہ خواہش کس کی کس حدتک پوری ہوتی ہے ؟ اس کا فیصلہ تو آنے والے ایام اور ادوار ہی کرتے ہیں ،لیکن وہ جو خود کو اللہ کی راہ میں لگا دیتے ہیں ،قبر یں اور نام تو انہیں کے زندہ رہتے ہیں ، بقول حضرت سلطان العارفین ؒ: اندر ھو تے باہر ھو وت، باہو کتھ لبھیوے ھو لو ں لوں دے وچ ذکر اللہ دا، دم دم پیا پڑھیوے ھو ظاہر باطن عین عیانی، ھو ھو پیا سنیوے ھو نام فقیر تنہاں دا باھو، قبر جنہاندی جیوے ھو ایک دانشور نے کہا تھا کہ جن تحریروں پہ " سرقیدگی"یعنی چوری کے سببسزائیں ملنی چاہئیں تھیں، ان پر ایوارڈ دے دیے جاتے ہیں ، بلکہ لوگ ان کو فخر سے اپنی میزوں پر آراستہ کیے ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو زبان و بیان کی نزہتوں سے آراستہ اور تحریر و تصنیف کا ملکہ عطا کیا ہو، تو اسے اس کے فیضان کو ضرور عام کرنا چاہیے ۔ لیکن آپ انـ"Cheaters" کا کیا کریں گے ، جنہوں نے تحریر وتصنیف کے لیے "آڑ ھتوں اور آڑھتیوں" سے باقاعدہ اور مستقل رابطے مستحکم کر رکھے ہیں۔ خطبات، مقالات اور تصنیفات کے بعد۔۔۔ اب یہ مرض"کالم نگاری" تک بھی آپہنچا ہے ، اور یوں: میں خیال ہوں کسی اور کا /مجھے سوچتا کوئی اور ہے /سرِ آئینہ میرا عکس ہے /پسِ آئینہ کوئی اور ہے اس " واردات "کو، انگریزی زبان میں"Palgiarism" یعنی " سرقہ" کہتے ہیں۔ویبسٹرز انسائیکلوپیڈیا کے مطابق: ـ"The appropriation or immitation of the language , ideas and thoughts of another author and representation of them as one's original work." "یعنی کسی دوسرے مصنف کی زبان ، تخیلات اور خیالات کی نقل کرنا یا اسے (اصل مصنف کی مرضی کے خلاف اپنا لینا ، اور اسے اپنا اصل کام(طبع زاد) کے طور پر پیش کرنا ۔" انسائیکلوپیڈیا آف بر ٹینکا نے "Palgiarism" کے بارے میں لکھا ہے: ـ" کسی دوسرے شخص کی تحریر وں کو چرا کر انہیں اپنا لینے کے عمل کو "سرقہ" کہتے ہیں، اس فراڈ کا جعلسازی اور ڈکیتی سے گہرا تعلق ہے" ۔کسی کے کلا م میں کچھ ردّوبدل کرکے نئی معنویت پیدا کرنا۔"تصّرفـ" (Tampering)کہلا تا ہے، لیکن اب تو بات ردّوبدل اور تصّرف سے آگے نکل گئی ہے۔ لوگ پورے کا پورا " کالم" ، کتاب یا مقالہ"ریڈی میڈ" لیتے، اور اپنے نام سے چھپوالیتے ہیں، اور یہ "ڈاکہ زنی" بڑی عام ہے ۔ کمپیوٹر کے پروگرام "Cut, Copy, Paste" نے تو اس کو اور بھی آسان بلکہ آسان تر کردیا ۔ یہ معاملہ محض کوئی عام دنیا داروں کی حد تک محدود نہیں، بلکہ دین کا لبادہ اوڑھے، اس جُرم میں سب سے زیادہ ملوثپائے جارہے ہیں، از خودحضرت داتا گنج بخشؒ کے ساتھ ، ان کے حلقے میں شامل کسی"جعلی صوفی" نے، ان کے ساتھیہ واردات کردی تھی ، آپ ؒ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں :"ایک بار میرے اشعار کا دیوان کسی نے مانگا اور لے گیا، اس کے سوا میرے پاس کوئی اور نسخہ نہ تھا، اس نے دیوان کو بالکل بدل دیا، میرا نام اس پر سے مٹا کر ، اس کی جگہ اپنا تخلص لگا کر ، اسے شائع کردیا، چونکہ آپؒ کے پاس، اسکی کوئی اور نقل موجود نہ تھی ، یو ں یہ تمام محنت ضائع ہوگئیـ۔حیرت بھی ہے اور مقامِ عبرت بھی ، کہ سارق یعنی چور جس نے حضرت داتا صاحبؒ کا دیوان اپنے نام سے شائع کروایا ، یقینا "صاحبِ دیوان" ہونے کے لیے چرایا اورطبع کروایا ہوگا، لیکن تاریخ کے اوراق میں اس کا کہیں کوئی نام و نشان نہ رہا ۔"بے برکتی" اسی کو تو کہتے ہیں۔ ویسے حال ہی میں محکمہ اوقاف کی طرف سے کشف المحجوب کے تخریج شدہ ماڈل نسخہ کے ساتھ بھی یہ کچھ ہوا ہے ، لیکن اس کا تذکرہ پھر کبھی سہی۔ آپ کس طرح سوچتے اور بولتے ہیں ، دنیا ان چیزوں کا خوب فہم رکھتی ہے، اسی لیے حضرت داتا صاحبؒ فرماتے ہیں، جو لوگ آپؒ کی تصنیف کے حقائق و معارف سے آگاہی رکھتے اور اُس شخص کی ذہنی سطح سے بھی واقف تھے ، تو اس کو دیکھتے اور کتاب کے مندرجات کو ۔۔۔لیکن جو حاصل کلام بات ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے بر کت چھین لی اور اس کا نام خاصانِ بارگاہ کی فہرست سے خارج کردیا۔ آج کل ایم اے ، ایم فِل، اور پی ایچ ڈی کے مقالات کے حالات بہت ـ"پتلے" ہیں۔ صرف لاہور میں ، اس وقت پندرہ سے زائدیونیورسٹیاں ایم فِل اور پی ایچ ڈی پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہیں، سٹوڈنٹس کمیاب ہونے کے سبب ،یونیورسٹیوں میں بہتر سے بہتر رعائتی پیکج متعارف ہورہے ہیں، جس کا لا محالہ اثر معیارتحقیق اور تعلیم پرپڑتا ہے ۔ مبلغ5000/- روپیہ ایم فل الائونس اور دس ہزار روپیہ پی ایچ ڈی الائونس کی خاطر اس تدریسی عمل کو مکمل۔۔۔ اور ڈگری کے حصول کو ممکن بنایا جاتا ہے ۔ تحقیقی و ذہنی نمو، علمی افزائش اور تدریسی معیار کا اس سارے مرحلے میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں۔یہی تو حیرت ہے کہ یونیورسٹی جن کی تعلیم و تعلم کی بنیاد ہی ریسرچ اور تحقیقات پر ہوتی ہے یا ہونی چاہیے ، ان کی تحقیق نگاری ان قواعدو مناہج سے عاری اور تخصصات(Specialization)کی اساس سے خالی ہوتی جارہی ہے ۔ دراصل" علمی تحقیق" کے لیے جس (Commitment) اور منظم و پیہم محنت کی ضرورت ہے ، آج کے محققین اور بالخصوص نو آموز سکالرر ان سے عاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحقیق اور مقالات ٹھوس علمی نتائج، ملاحظات، استنباط و حاصلاتِ بحث سے خالی رہ جاتے ہیں۔